تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پار

انساناں دے لہو وچ بِھجیاں، خبراں ہر اخبار دیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 62
سجریاں چوبھاں دے دے مینوں، قسطاں دے وچ ماردیاں
انساناں دے لہو وچ بِھجیاں، خبراں ہر اخبار دیاں
مُدتاں توں پئے وسدے نیں، انج دل چ خوف نہ پنگرن دے
جنج انجانیاں سدھراں، کسے اُٹھدی ہوئی مٹیار دیاں
ہمدرداں نئیں، غیراں کولوں، سچ دی آس رکھینداواں
میں کنسوئیاں لیندا رہناں، اپنے شہروں پار دیاں
محرومی دیاں خورے کِنیاں، لِتّاں تن چ لتھیاں نیں
چِیریاں نال وی، جان نہ لہوچوں، پرتاں ایس آزار دیاں
جو موسم وی آوے،دِسّے اِنج ائی کجھُ نتھاواں اوہ
جنج بے سُرتیاں اکھیاں، کسے کم ظرفے میخوار دیاں
اوڑک رانجھے چاک دی ڈولی، رہ جانی ایں سَکھنی ائی
اپنے انت نوں کدے نہ پجن، گھڑیاں قول اقرار دیاں
خورے کیہڑے ہجر دے پندھ چ، سُتے درد جگاندا اے
بول مسافر کونجاں دے نیں، گلاّں ماجدُ یار دیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہے سن لوکی جاندے، سانوں شہروں پار وی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 11
اُنج ائی لگیاں تہمتاں، نئیں ساں کُجھ بُریار وی
ہے سن لوکی جاندے، سانوں شہروں پار وی
دِتی سی اِک لہر وچ، اکھ اشارے روشنی
نور جیہا اِک لشکیا، بُلھیاں دے وچکار وی
گزری رات پہاڑ جیہی، لے کے پلکاں بھاریاں
دُکھ نوں روڑھ نہ سکیاں، اکھیاں تار و تار وی
جُثے دے وچ روگ سن، اکھیاں ہے سن ویہندیاں
آل دوالے روح دا، پیا ہویا کِھلیار وی
وچ بہاراں چہکدا، پھُلاں وانگر مہکدا
رہ گیا اوڑک سہکدا، تیرا ماجدُ یار وی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہم بندگان ہیں اُسی پروردگار کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 210
جینے کے دن بھی جس نے دئے ہیں ادھار کے
ہم بندگان ہیں اُسی پروردگار کے
یہ بھی نجانے کیوں مرے دامن میں رہ گئیں
کچھ پتّیاں کہ نقش ہیں گزری بہار کے
گنوائیں کیا سے کیا جو مبلّغ ہیں خَیر کے
ہائے وہ سلسلے کہ جو ہیں گِیر و دار کے
اُس نے تو کھال تک ہے ہماری اُتار لی
زیرِ نگیں ہم آپ ہیں کس تاجدار کے
ہاں آکے بیٹھتے ہیں کبوتر جو بام پر
ہاں اقربا ہیں یہ بھی مرے دُور پار کے
تھہرائیں ہم رقیب کسے اور کسے نہیں
ہم یار بھی ہوئے ہیں تو جہاں بھر کے یار کے
کھویا ہے کیا سے کیا ابھی کھونا ہے کیا سے کیا
ماجد یہ کیسے دن ہیں گنت کے شمار کے
نذرفیض
ماجد صدیقی

مثالِ قوسِ قزح ہے یہ پیار کا موسم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
بہم رہے نہ سدا قُربِ یار کا موسم
مثالِ قوسِ قزح ہے یہ پیار کا موسم
نشہ حیات کا سارا اُسی میں پنہاں تھا
کسی بدن پہ جو تھا اختیار کا موسم
نجانے کیوں ہے یتیموں کے دیدہ و دل سا
جہاں پہ ہم ہیں اُسی اِک دیار کا موسم
ہے قحطِ آب کہیں، اور قحطِ ضَو ہے کہیں
نگر پہ چھایا ہے کیا شہریار کا موسم
جو چاہیے تھا بہ کاوش بھی وہ نہ ہاتھ آیا
محیطِ عمر ہُوا انتظار کا موسم
اُنہیں بھی فیض ہمیں سا ملا ہے دریا سے
اِدھر ہی جیسا ہے دریا کے پار کا موسم
گزرنا جان سے جن جن کو آ گیا ماجد
نصیب اُنہی کے ہُوا اَوجِ دار کا موسم
نذرفیض
ماجد صدیقی

جو بھی الجن ہیو اسے یار بنا رکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 150
ہم نے خدشوں کو بھی دلدار بنا رکھا ہے
جو بھی الجن ہیو اسے یار بنا رکھا ہے
ہم نے ڈالی ہے یہ پانی میں مدھانی کیسی
مفت کی بحث کو تکرار بنا رکھا ہے
آنسوآن کو وہ تپایا کہ شرر ٹھہرے ہیں
اوس کی آب کو بھی نار بنا رکھا ہے
رہبروں نے بس اک اپنی شفا کی خاطر
قوم کی قوم کو بیمار بنا رکھا ہے
لُوٹھا اہلِ وطن کو ہے شعار اپنا ہوا
کُنجِ اندوختہ اُس پار بنا رکھا ہے
ہم کہ ہیں اہلِ قناعت ہمیں دیکھو آ کے
روئیے روشن سحر آثار بنا رکھا ہے
کیسے موضوع یہ اپنائے ہیں ہم نے ماجد
فن کو بھی روز کا اخبار بنا رکھا ہے
ماجد صدیقی

جویا صحافتی ہیں زرِ بے شمار کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 117
آیت بھی چھاپتے ہیں تو ساتھ اشتہار کے
جویا صحافتی ہیں زرِ بے شمار کے
بندوں پہ بندگان کو اپنے خدائی دے
احسان کیا سے کیا نہیں پروردگار کے
ٹھہرائیں ہم رقیب کسے اور کسے نہیں
ہم یار بھی ہوئے تو جہاں بھر کے یار کے
یہ بھی نجانے کیوں مرے دامن میں رہ گئیں
یہ پتّیاں کہ نقش ہیں گزری بہار کے
سیراب بھی کرے ہے پہ کاٹے بہت زمیں
فیضان دیکھنا شہ دریا شعار کے
گنوائیں کیا سے کیا جو مبلّغ ہیں خیر کے
ہائے وہ سلسلے کہ جو ہیں گیر و دار کے
اس نے تو کھال تک ہے ہماری اتار لی
زیر نگیں ہم آپ ہیں کس تاجدار کے
ہاں آ کے بیٹھتے ہیں کبوتر جو بام پر
ہاں اقربا ہیں یہ بھی مرے دور پار کے
بدلے میں ان کے کرنا پڑے جانے کیا سے کیا
یہ زندگی کے دن کہ ہیں یکسر ادھار کے
ماجد ترا سخن بھی سکوں رہرووں کو دے
گن تجھ میں بھی تو ہیں شجر سایہ دار کے
ماجد صدیقی

اور طبعاً ہے مرا اللہ والوں میں شمار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
شاعری میری عبادت، شاعری میرا شعار
اور طبعاً ہے مرا اللہ والوں میں شمار
میرے جیون کے ورق سرچشمۂ آب بقا
چاندنی میرا سخن ہے، فکر ہے فصلِ بہار
اُس کے پانے کو ہماری سادگی یہ دیکھنا
کاغذی ناؤ میں بچّوں سے چلے دریا کے پار
کچھ شدائد میں ملوث، کچھ بکھیڑوں میں پڑی
حرص کے رسیا مزے میں، خلق ہے زار و نزار
راہبر کچھ کر نہیں پاتے مگر دعوے بہت
دیکھنا یہ تیل بھی اور دیکھیے گا اِس کی دھار
ٹوٹ کر بکھرے ملیں دانے کہیں تسبیح کے
اور بکھر جاتی ملے ماجد کہیں چڑیوں کی ڈار
ماجد صدیقی

فاصلہ رکھیے تو بہتر، ورنہ پیار ہو جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
آپ کا منوا ہمارے من کا یار ہو جائے گا
فاصلہ رکھیے تو بہتر، ورنہ پیار ہو جائے گا
اپنے منوانے کو وہ جو بدکلامی تک کرے
اور بھی ٹھہرے گا کمتر اور خوار ہو جائے گا
ایٹمی قوت ہوئے ہم تو، یہ کیوں سوچا کیے؟
یوں ہمارا مُلک بھی، بااختیار ہو جائے گا
پے بہ پے دریا میں اٹھتی ہر نئی منجدھار سے
اپنا بیڑاگر نکل پایا تو پار ہو جائے گا
کس کو اب انکار کی جرأت کہ وصفِ خاص سے
وہ کہ بدنامِ زماں تھاتاجدار ہو جائے گا
ہاں گماں تک بھی ہمیں ایسا نہ تھا پایانِ عمر
ہم نے ماجد! جو کہا، وہ زرنگار ہو جائے گا
ماجد صدیقی

ممکن ہو جس طور بھی نکلوں اِس آزار سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
پہنچے رنج رقیب سے یا راحت ہو یار سے
ممکن ہو جس طور بھی نکلوں اِس آزار سے
تجھ سے مرا ملاپ ہے نکھرا موسم چیت کا
پھول کِھلیں گے دیکھنا قُرب کے اِس تہوار سے
نکلی دُھوپ شباب کی تو پھر کیسی دُوریاں
وہ صحنوں کا پھول ہے جھانکے گا دیوار سے
آنکھ مچولی کھیلتا نت کھڑکی کے اَبر سے
آئے گا وہ چاند بھی پاس کبھی اُس پار سے
بے غالب بے میرؔ ہو ماجدؔ تمہیں قرار کیوں
بچھڑے ہوئے غزال ہو تم ہرنوں کی ڈار سے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑