تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پات

نئے نئے صدمات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
دے ہر دن ہر رات
نئے نئے صدمات
پیڑ کی ہیں اوقات
جھڑ جھڑ جاتے پات
تن تن نقش ملیں
لَو دیتی ضربات
کرب سے انساں کا
ہے جنموں کا سات
استقبال کریں
قدم قدم آفات
ایک ہنسی ہے جو دے
نِت رونے کو مات
ملنے ہوئے کٹھن
ماجِد اَن اور بھات
ماجد صدیقی
Advertisements

اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
خوشبُو بھی صبا اُس کی لئے سات نہ آئے
اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے
جو لہر بھی اُٹھتی ہو بھلے دل میں اُٹھے وُہ
ہونٹوں پہ مگر تُندیٔ جذبات نہ آئے
اک بار جھنجھوڑا ہو جِسے ابر و ہوا نے
اُس پیڑ پہ پھر لوٹ کے پھل پات نہ آئے
دیکھی تھی نشیمن کے اُجڑنے سے جو پہلے
ایسی بھی گلستاں میں کوئی رات نہ آئے
جو یاد بھی آئے، تو لرزتا ہے بدن تک
آنکھوں میں کہیں پھر وُہی برسات نہ آئے
ہر کوہ یہ کہتا ہے کہ آگے کبھی اُس کے
تیشے میں ہے جو لطفِ کرامات نہ آئے
کرنے کو شفاعت بھی یہ اچّھا ہے کہ ماجدؔ
نیّت ہے بُری جس کی وُہ بد ذات نہ آئے
ماجد صدیقی

اُس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
خلقتِ شہر سے کیوں ایسی بُری بات کہے
اُس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے
جاننا چاہو جو گلشن کی حقیقت تو سُنو
بات وُہ شاخ سے نُچ کر جو جھڑا پات کہے
اِس سے بڑھ کر بھی ہو کیا غیر کی بالادستی
جیت جانے کو بھی جب اپنی نظرمات کہے
کون روکے گا بھلا وقتِ مقرّر پہ اُسے
بات ہر صبح یہی جاتی ہوئی رات کہے
بس میں انساں کے کہاں آئے ترفّع اس سا
وقت ہر آن جو اپنی سی مناجات کہے
منحرف حرف سے کاغذ بھی لگے جب ماجدؔ
کس سے جا کر یہ قلم شّدتِ صدمات کہے
ماجد صدیقی

کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
تھی غنچۂ دل میں جو وُہی بات رُکی ہے
کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے
کب ریت کی دیوار سے سیلاب ہے ٹھٹکا
فریاد سے کب یورشِ آفات رُکی ہے
ژالہ سا ہر اِک برگ لپکتا ہے زمیں کو
کیسی یہ بھلا باغ میں برسات رُکی ہے
کچھ اور بھی مچلے گی ابھی بُعدِ سحر سے
پلکوں پہ ستاروں کی جو بارات رُکی ہے
عجلت میں رواں، مالِ غنیمت کو سنبھالے
کب موجِ ہوا پاس لئے پات، رُکی ہے
بوندوں نے قفس میں بھی یہی دی ہے تسلی
صیّاد سے کب بارشِ نغمات رُکی ہے
ماجدؔ یہ کرم ہم پہ کہاں موسمِ گل کا
کب ہاتھ میں لینے کو صبا ہات رُکی ہے
ماجد صدیقی

اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
پل پل بُجھتی جس میں اپنی ذات دکھائی دیتی ہے
اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے
صحن چمن میں پہلا ہی سا رقص و سرُود ہوا کا ہے
ہر سُو گرتے پتّوں کی برسات دکھائی دیتی ہے
جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں
ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے
شاخِ طرب سے جھڑنے والی، گردِ الم میں لپٹی سی
صُورت صُورت پیڑ سے بچھڑا پات دکھائی دیتی ہے
سودا ہے درپیش ہمیں جو آن کا ہے یا جان کا ہے
صُورت جینے مرنے کی اک سات دکھائی دیتی ہے
موسمِ دشت میں نم ہو ماجدؔ کب تک آبلہ پائی سے
اَب تو ہمیں اِس رن میں بھی کُچھ مات دکھائی دیتی ہے
ماجد صدیقی

بڑا دشوار ہے حق بات کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
چمن کی تیرگی کو رات کہنا
بڑا دشوار ہے حق بات کہنا
جو دھبے گرد کے اشجار پر ہیں
انہیں دھبے نہ کہنا پات کہنا
جو انساں کل فرشتہ تھا نظر میں
اُسے بھی پڑ گیا بد ذات کہنا
شریکِ راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
زباں پر حرفِ حق آئے اگر تو
اُسے تم تنُدیٔ جذبات کہنا
نہ خفت ماننا کوئی تم اپنی
ہماری جیت ہی کو مات کہنا
یہ دنیا ہے یہاں رہنے کو ماجدؔ
پڑے سچ جھوٹ سب اِک سات کہنا
ماجد صدیقی

لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
بازار سے ہر عید سے پہلے کی رات ہم
لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم
تاریخ نے دئیے ہیں ہمیں نام کیا سے کیا
کرنے گئے جو زیرِ نگیں سومنات ہم
تیور ہی اہلِعدل کے کچھ اس طرح کے تھے
پلٹے ہیں حلق ہی میں لیے اپنی بات ہم
لینے دیا جو تنُدیٔ موسم نے دم کبھی
نکلیں گے ڈھونڈنے کو کہیں پھول پات ہم
اپنے سفر کی سمت ہی الٹی ہے جب توکیوں
کرتے پھریں تلاش نہ راہِ نجات ہم
دربار میں نزاکت احساس کب روا
ماجدؔ کسے سُجھائیں نظر کے نکات ہم
ماجد صدیقی

سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے
سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے
مطمئن کیا ہو بھلا بچّوں کی نادانی سے وہ
ماں جسے فرصت نہیں اک آن بھی خدشات سے
کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں
درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے
ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے
مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے
جس کے ہم داعی ہیں ماجد ضَو نہیں، ظلمت ہے وہ
پھوٹتی ہے جو ہمارے جسم کے ذرّات سے
ماجد صدیقی

آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میں
آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں
اوٹ سے منڈیروں کی، ڈور چھوڑ کر مجھ کو
دے گیا ہے پھر کوئی مات، میرے آنگن میں
نام پر مرے کس نے، کاٹ کاٹ کر چِّلے
دفن کی ہے آسیبی دھات، میرے آنگن میں
بس اِسی بنا پر مَیں، آسماں سے رُوٹھا ہوں
چاند کیوں نہیں اُترا رات، میرے آنگن میں
جب سے کُھل چلی ماجدؔ، بے بضاعتی دل کی
کرب نے لگائی ہے گھات، میرے آنگن میں
ماجد صدیقی

فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی بارات
فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات
اپنی خشک تنی کے نوحے، کر کے لبوں سے محو
پانی ہی کے گُن گاتے ہیں، پیڑ سے جھڑتے پات
ہم ایسے پچھڑے لوگوں کے، دل کا حال نہ پوچھ
جنگلی گھاس کی صورت چمٹیں، قدم قدم صدمات
جیون ہے سائے کی مسافت، پل میں اور سے اور
شکلیں بدلے اور تیاگے اپنوں تک کا سات
کس نے چُلوّ پانی سے مُجھ پیڑ کی چاہی خیر
کس نے قبر پہ حاتم کی ماری ہے، ماجدؔ لات
ماجد صدیقی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

شاعری ماجد! عبارت ہو اگر صدمات سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کم نہیں وجدان پر اُتری ہوئی آیات سے
شاعری ماجد! عبارت ہو اگر صدمات سے
ہر تمنّا ہے اِسی کی دھند میں لپٹی ہوئی
مدّتوں سے ہے یہی رشتہ اندھیری رات سے
کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں
درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے
بن گئیں پیڑوں کی شاخیں بھی قفس کی تیلیاں
سامنا ہے باغ میں ایسے ہی کچھ حالات سے
ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے
مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے
ماجد صدیقی

آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تُجھ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے
آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے
اپنی خواہش، کہ گُل پیرہن ہو چلیں
اور فضائے چمن، وقفِ حالات ہے
چار سُو ایک ہی منظرِ بے سکوں
چار سُو خشک پتّوں کی برسات ہے
اَب تو ماجدؔ خزاں کے نہ منکر رہو
شاخ پر اَب تو کوئی کوئی پات ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑