تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پاؤں

میں سر سبز شجر جو پل پل اِیندھن بنتا جاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
دے کر چھِیننے والے تیری دین کو کیا ٹھہراؤں
میں سر سبز شجر جو پل پل اِیندھن بنتا جاؤں
تیری سماعت کے در پر ہے بس یہ دستک میری
چندرماں ایسا گھٹتا بڑھتا میں راتیں چمکاؤں
اور بھی کِھل کِھل اُٹھیں میرے ہونٹ گُلابوں جیسے
حرفوں حرفوں اور بھی چیت رُتوں تک میں مسکاؤں
لہرائیں، رنگ لائیں میرے دل کی سب آشائیں
میں نے جو بِیجائیاں کی ہیں،اُن کی فصل اُٹھاؤں
ان کی مہک، ان کی شیرینی، لُطف دِکھائیں اپنے
پُھولنے پھلنے والی اپنی شاخوں پر اِتراؤں
اِیقان و فیضان سے میرے جو سرچشمہ پُھوٹا
اُس کی نم کی یاوری سے اِک اور جنم میں پاؤں
جس کا اُنس ہے، جس کی قرابت، ماجِد! دم خَم میرا
اورفرازوں، اُس سے اپنے قُرب کی پینگ جُھلاؤں
ماجد صدیقی

سپنے سکُھ کی چھاؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
نقش بنے صحراؤں کے
سپنے سکُھ کی چھاؤں کے
دیدۂ تر کو مات کریں
دشت میں چھالے پاؤں کے
دیکھیں کیا دکھلاتے ہیں
پتّے آخری داؤں کے
پیڑ اکھڑتے دیکھے ہیں
کِن کِن شوخ اناؤں کے
ابریشم سے جسموں پر
برسیں سنگ جفاؤں کے
خرکاروں کے ہاتھ لگیں
لعل بلکتی ماؤں کے
ماجدؔ دیہہ میں شہری ہم
شہر میں باسی گاؤں کے
ماجد صدیقی

ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 94
سخن سرا تھا جو لڑکا سا ایک، گاؤں کا
ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا
ہوا نہ حرفِ لجاجت بھی کامیاب اپنا
چلا نہ اُس پہ یہ پتا بھی اپنے داؤں کا
پسِ خیال ہو بن باس میں وطن جیسے
بہ دشتِ کرب، تصوّر وہی ہے چھاؤں کا
کسے دکھاؤں بھلا میں یہ انتخاب اپنا
گلہ کروں بھی تو اب کس سے آشناؤں کا
تلاشِ رزق سے ہٹ کر کہیں نہ چلنے دیں
ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاؤں کا
بلک رہا ہوں کہ کہتے ہیں جس کو ماں ماجدؔ
اُلٹ گیا ہے مرا طشت وہ دعاؤں کا
ماجد صدیقی

جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی

انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کے
انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے
اُٹھے تھے جو حدّت سے فصلوں کے بچانے کو
سایہ نہ بنے کیونکر وُہ ہاتھ دُعاؤں کے
کیا جانئیے بڑھ جائے، کب خرچ رہائش کا
اور گھر میں نظر آئیں، سب نقش سراؤں کے
ٹھہرے ہیں جگر گوشے لو، کھیپ دساور کی
بڑھ جانے لگے دیکھو، کیا حوصلے ماؤں کے
رودادِ سفر جب بھی، چھِڑ جانے لگی ماجدؔ
لفظوں میں اُترا آئے، چھالے تھے جو پاؤں کے
ماجد صدیقی

کہ ایک آن بھی خود سے جُدا نہ پاؤں تجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
نظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھے
کہ ایک آن بھی خود سے جُدا نہ پاؤں تجھے
یہ چہچہے، یہ سحر، پَو پھٹے کا منظرِ شب
ترا ہی عکس ہیں کِس طرح مَیں بھلاؤں تجھے
مہک مہک ترا اِک رنگ گل بہ گل تری لَے
تجھے لکھوں بھی تو کیا، کیسے گنگناؤں تجھے
نظر لگے نہ تمّنائے وصل کو میری
صبا کا بھیس بدل لے گلے لگاؤں تجھے
سحر کا عکس ہے ماجدؔ تری غزل کا نکھار
یہ ایک مژدۂ جاں بخش بھی سُناؤں تجھے
ماجد صدیقی

پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا
وحشتِ غم ہے دل میں یوں جیسے
کوئی میلہ لگا ہو گاؤں کا
سایۂ ابر بھی چمن سے گیا
خوب دیکھا اثر دعاؤں کا
جو گریباں کبھی تھا زیبِ گلو
اَب وہ زیور بنا ہے پاؤں کا
اُن سے نسبت ہمیں ہے یُوں ماجدؔ
ربط جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا
ماجد صدیقی

یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں
رہ بہ رہ خزاؤں سے سامنا نظر کا ہے
دل کہ ایک صحرا ہے دیکھ دیکھ ڈرتا ہوں
کیا کہوں عجب سا ہے حادثہ مرا لوگو
سر بہ سر بہاراں ہوں پر خزاں سے ابتر ہوں
مقتلِ تمّنا ہے پیش و پس مرے ماجدؔ
مَیں کہ جیسے مجرم ہوں چین کس طرح پاؤں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑