تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ٹھہرایا

ساتھ ہی جانے کونداسا کیوں آنکھوں میں لہرایا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 134
آشیان کا پہلا تنکا روئے شجر پہ ٹکایا ہے
ساتھ ہی جانے کونداسا کیوں آنکھوں میں لہرایا ہے
ایک سوال ہے سُوئے عدالت کیوں نہ گئے وہ اس کیخلاف
بازاروں میں جس کا پتلا سُولی پر لٹکایا ہے
صبح سویرے کل کی طرح تازہ اخبار کے عنواں سے
تازہ خون کے نقش لیے پھر ایک مرقّع آیا ہے
پینچ وہی سردار وہی جو روند کے آئیں خلقت کو
اگلوں نے بھی پچھلوں سا انہی کو گلے لگایا ہے
پھول پھول کا حال سنائے وہ جو اگلے پھولوں کو
ہم نے تو اُس بھنورے کو اپنا مرشد ٹھہرایا ہے
سچ پوچھیں تو اس نے بھی بُش صاحب ہی کا حق مارا
اوباما نے کیسے ماجد امن انعام کمایا ہے
ماجد صدیقی

کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑