تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ٹھان

بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
بن پڑے گر تو یہ ہار بھی مان لیں
بے بسی اپنا مقدُور ہی جان لیں
ہاں نمونے کی مخلوق ہیں اِک ہمیں
ہر کسی کا جو، سر اپنے بُہتان لیں
ہم کہ تشنہ تھل ایسے ہیں، بہرِ سکوں
اوس تک کا بھی کیونکر نہ احساں لیں
اے جفا جُو! ہم انساں ہیں پُتلے نہیں
کیا پتہ، کس گھڑی؟ دل میں کیا ٹھان لیں
عیش پر جو لگا اُن کے، ضِد ہے اُنہیں
اپنے ذمّے ہمِیں وُہ بھی تاوان لیں
ناز ماجدؔ ہمیں کیا ہو پرواز پر
وُہ جو شاہین ہیں جانے کب آن لیں
ماجد صدیقی

تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کیا کیا خم اور ہوں ابھی بازو کمان کے
تیور بدل چلے ہیں بہت ، آسمان کے
جیسے کوئی اُڑائے کبوتر ، بہ روزِ جشن
پُرزے ہوا کے ہاتھ تھے یوں بادبان کے
بہروپ ہی بھرے گا ، کرم بھی وہ گر کرے
نکلا جو گھر سے ، راہزنی ہی کی ٹھان کے
ماجد ہمیں بھی ، دیکھیے جھانسہ دیا ہے کیا
آنچل سا آسمان پہ ،بدلی نے تان کے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑