تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

وا

دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 107
ویکھ ویکھ کے بوہے بھِیڑے، کُنڈیاں رہئی کھڑکا
دل دے وسدے شہروں لنگھدیاں، پاگل ہو گئی وا
مکھڑے مکھڑے پَچھ دُکھاں دے، ویکھ نہ سکے کو
اکھیوں اکھیں ٹھاٹھاں مارے، لہو دا اک دریا
مَتّھے ائی نہ لگاّں تیرے، میں اَؤں بُھگا رُکھ
لٹکے لاندئیے وگدئیے وائے، مینوں ہتھ نہ لا
سُفنیاں دے ایس شیش محل چ، لہہ آئی کیہڑی حور
سِر تے چھتر تان پھُلاں دا، چانن ہیٹھ وچھا
دھپ چڑھے یا چانن لشکے، اوڑک گوہڑی چھاں
کوئی وی جان نہ سکیا ماجدُ سُکھ دے نگھّے تا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ساعت ساعت جشن منا لے ہنس لے جی لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 128
سانس سانس کا کیف چُرا لے ہنس لے جی لے
ساعت ساعت جشن منا لے ہنس لے جی لے
کھلتی کلیوں کی خوشبو میں تیوری دھو لے
لطف جہاں بھی ملے وہ اڑا لے ہنس لے جی لے
دن کا موتیا رات کی رانی یک جا کرلے
ایک مہک دوجی میں ملا لے ہنس لے جی لے
ہجر کی دھول کو چہرے پر نہیں جمنے دینا
قربتِ یاراں جی میں سنبھالے ہنس لے جی لے
زیب کف لمحات کیے شبنم کے موتی
ساتھ رات کے بھنگڑا ڈالے ہنس لے جی لے
آنکھ میں چبھنے والی ہر تصویر مٹا کے
یاد یاد ماضی کی کھنگالے ہنس لے جی لے
ہاں ماجد یاور کے دیس سے آنے والا
ہرجھونکا سینے سے لگا لے ہنس لے جی لے
ماجد صدیقی

آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
در کاہے کو کُھلا ہے اِتنی دیر گئے
آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے
کس نے کس کی پھر دیوار پھلانگی ہے؟
کس سے کون خفا ہے اِتنی دیر گئے
کس کی آنکھ کی آس کا تارا ٹُوٹا ہے
کس کا چین لُٹا ہے اِتنی دیر گئے
دل کے پیڑ پہ پنکھ سمیٹے سپنوں میں
ہلچل سی یہ کیا ہے اِتنی دیر گئے
کن آنکھوں کی نم میں، گُھلنے آیا ہے
بادل کیوں برسا ہے اِتنی دیر گئے
سو گئے سارے بچّے بھی اور جگنو بھی
پھر کیوں شور بپا ہے اِتنی دیر گئے
کس کو بے کل دیکھ کے ماجدؔ چندا نے
آنگن میں جھانکا ہے اِتنی دیر گئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑