تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

والی

آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ابرِ گریزاں سی بیگانہ، لیکن دیکھی بھالی سی
آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی
آنکھ نہ کُھل چکنے سے پہلے کیا کیا سُندر لگتی تھی
وُہ لڑکی انجانی سی، پھولوں کے رُوپ میں ڈھالی سی
کس کس بات میں کس کس پر ہم کھولیں اِس کی بیتابی
نقش ہو کس کس نامے پراپنی یہ آنکھ، سوالی سی
اوروں کو بھی مجُھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو
فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی
جانے کس کی سنگ دلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں مَیں
شام تلک کشکول بنی اِک بُڑھیا بھولی بھالی سی
ماجدؔ وہ نادر ہستی بھی اَب تو خواب خیال ہوئی
از خود جھُک جانے والی جنّت کے پیڑ کی ڈالی سی
ماجد صدیقی

وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہم نے بھی اب نسبت اُس سے ٹھہرا لی ہے
وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے
جو درد گریزاں دل سے تھا وہ جا بھی چکا
کچھ روز سے اب پنجرہ پنچھی سے خالی ہے
احوالِدَرُوں چہرے سے نہیں کُھلنے دیتے
لو ہم نے بھی ہنس کھیل کے بات بنا لی ہے
لَو دیکھ کے شاید کوئی مسافر آ پہنچے
ہم نے بھی دشت کنارے آگ جلا لی ہے
اُس شوخ کا چہر ہ شوخ گلابوں جیساہے
اور کان میں پہلی کے چندا سی بالی ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑