تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

وار

جوانی ٹھاٹھاں مار دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 80
کنھوں پئی پکار دی
جوانی ٹھاٹھاں مار دی
آئیٔ رُت بہار دی
گل چھیڑو پیار دی
پنگرے بہاراں نال
تاہنگ تُدھ یار دی
زندگی جدائی دیاں
کندھاں پئی اُساردی
دلا! مٹیار کوئی
جِند تینتھوں واردی
شعر ہون ماجداُ
جیئوں گل دُکھی نار دی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اور طبعاً ہے مرا اللہ والوں میں شمار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
شاعری میری عبادت، شاعری میرا شعار
اور طبعاً ہے مرا اللہ والوں میں شمار
میرے جیون کے ورق سرچشمۂ آب بقا
چاندنی میرا سخن ہے، فکر ہے فصلِ بہار
اُس کے پانے کو ہماری سادگی یہ دیکھنا
کاغذی ناؤ میں بچّوں سے چلے دریا کے پار
کچھ شدائد میں ملوث، کچھ بکھیڑوں میں پڑی
حرص کے رسیا مزے میں، خلق ہے زار و نزار
راہبر کچھ کر نہیں پاتے مگر دعوے بہت
دیکھنا یہ تیل بھی اور دیکھیے گا اِس کی دھار
ٹوٹ کر بکھرے ملیں دانے کہیں تسبیح کے
اور بکھر جاتی ملے ماجد کہیں چڑیوں کی ڈار
ماجد صدیقی

ممکن ہو جس طور بھی نکلوں اِس آزار سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
پہنچے رنج رقیب سے یا راحت ہو یار سے
ممکن ہو جس طور بھی نکلوں اِس آزار سے
تجھ سے مرا ملاپ ہے نکھرا موسم چیت کا
پھول کِھلیں گے دیکھنا قُرب کے اِس تہوار سے
نکلی دُھوپ شباب کی تو پھر کیسی دُوریاں
وہ صحنوں کا پھول ہے جھانکے گا دیوار سے
آنکھ مچولی کھیلتا نت کھڑکی کے اَبر سے
آئے گا وہ چاند بھی پاس کبھی اُس پار سے
بے غالب بے میرؔ ہو ماجدؔ تمہیں قرار کیوں
بچھڑے ہوئے غزال ہو تم ہرنوں کی ڈار سے
ماجد صدیقی

بہ شہرِ درد وُہی لوگ شہر یار ہُوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
اُتر کے اَوج سے پل بھر جو خاکسار ہوئے
بہ شہرِ درد وُہی لوگ شہر یار ہُوئے
خطا کچھ اِس میں تمہاری بھی تھی کہ غیروں کے
تمام لوگ مقلّد سپند وار ہوئے
جو جھُک گئے تھے سکوں آشنا تو تھے لیکن
گراں بہا تھے وہی سر جو زیبِ دار ہوئے
دُعا کو جن کی اُٹھے ہاتھ شل ہوئے اپنے
ہمارے حق میں وُہی پل نہ سازگار ہوئے
کہاں کا لطف کہاں کی طراوتیں ماجدؔ
کہ اب تو لفظ بھی اپنے ہیں خارزار ہوئے
ماجد صدیقی

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
شہر جلے چاہت کے سب بازار جلے
دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے
لُو جس جانب سے آئی ہے پرافشاں
کون کہے یہ، کتنے نگر اُس پار جلے
رُت بدلی تو آگ میں سُرخ گلابوں کی
کیا کیا بھنورے ہیں پروانہ وار جلے
کوئی ستارہ، کوئی شرر کہتا ہے جنہیں
آنکھوں میں لَو دیتے وُہ آزار جلے
بعدِ فنا بھی وُہ جو کسی کی زیر ہوئیں
صدیوں تک اُن نسلوں کے آثار جلے
ماجدؔ جی جب آنچ بھنور کی پہنچی تو
پانی میں بھی کشتی کے پتوار جلے
ماجد صدیقی

پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
شجر سے گرتا ہر ایک پتّا شمار کرنا
پڑے گا تا عُمر اَب یہی کاروبار کرنا
قفس سے جاتی ہوئی ہواؤ، ستمگروں پر
ہماری حالت کُچھ اور بھی آشکار کرنا
یہی تأمّل کا درس ہے اُس کی کامرانی
عقاب سیکھے فضا میں رُک رُک کے وار کرنا
بنامِ خوبی جو ہم سے منسوب ہے، وفا کا
یہ دشت بھی ہے ہمیں اکیلے ہی پار کرنا
ہیں اِس پہ پہلے ہی کتنے احسان مُحسنوں کے
نظر کو ایسے میں اور کیا زیر بار کرنا
طلب اِسی زندگی میں جنّت کی ہے تو ماجدؔ
نہ خبط اعصاب پر کوئی بھی سوار کرنا
ماجد صدیقی

پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
آس ہمیں بھی کچھ ایسا ہی خوار کرے
پات پہ جیسے چیونٹی دریا پار کرے
جُگ بیتے ایسا ہی ہوتا آیا ہے
دل میں جس کے چور ہو پہلے وار کرے
دیکھ کے چابک راکب کا، چل پڑنے سے
مرکب میں کب تاب کہ وُہ انکار کرے
بادل جُھک کر اِک دو بوندیں برسا کر
اور بھی افزوں صحرا کا آزار کرے
ہم وُہ گھوڑے بیچ کے سونے والے ہیں
اَب کوئی بھونچال جنہیں بیدار کرے
عرضِ سخن پر ماجدؔ داد خسیسوں کی
کسب ہُنر تک سے جیسے بیزار کرے
ماجد صدیقی

اِن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
در پئے آزار کچھ احباب کچھ اغیار تھے
اِن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے
گرز جو ہم پر اُٹھا اپنے نشانے پر لگا
تِیر چلّے پر چڑھے جتنے، جگر کے پار تھے
جان لیوا خامشی اُس کی تھی اور جو بول تھے
سب کے سب شاخِ سماعت پر تبر کی دھار تھے
کھو کے اُس چنچل کی چاہت میں یہی ہم پر کُھلا
اِک ذرا سا لطف، پھر آزار ہی آزار تھے
کیا سے کیا اُس شوخ کے ہاتھوں نہ سہنے پڑ گئے
جس قدر بھی جبر کے آداب تھے اطوار تھے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑