تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نگر

کب سے نہیں ترس رہا رخت سفر کو میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 201
تیری قرابتوں کے دیئے بال و پر کو میں
کب سے نہیں ترس رہا رخت سفر کو میں
جب سے عطا ہوئی ہے مجھے دولتِ غنا
لاتا نہیں نظر میں کسی تاجور کو میں
کٹھکا ہو اُس پہ کیوں کسی بارانِ سنگ کا
دیکھوں جہاں کہیں کسی پھلتے شجرکو میں
یکجا ہوں جس میں عجز و انا و ادائے عدل
پاؤں تو کس طرح کسی ایسے بشر کو میں
جب بھی ملے سفیر کسی ملکِ خاص کا
حسرت سے گھورتا ہوں بس اپنے نگر کو میں
اِک اِک کا منتہائے غرض ہے بس اپنی ذات
’پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں،
ماجد شبانِ تار سا کب سے ہوں منتظر
کب پا سکوں گا حسبِ تمنّا سحر کو میں
ماجد صدیقی

پاؤں نہ بھولنے کبھی طُولِ سفر کو میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 193
ٹھہروں جہاں کہیں بھی پہر دو پہر کو میں
پاؤں نہ بھولنے کبھی طُولِ سفر کو میں
جب سے عطا ہوئی ہے مجھے دولتِ غنا
لاتا نہیں نظر میں کسی تاجور کو میں
کٹھکا ہو اُس پہ کیوں کسی بارانِ سنگ کا
دیکھوں جہاں کہیں کسی پھلتے شجرکو میں
یکجا ہوں جس میں عجز و انا و ادائے عدل
پاؤں تو کس طرح کسی ایسے بشر کو میں
جب بھی ملے سفیر کسی ملکِ خاص کا
حسرت سے گھورتا ہوں بس اپنے نگر کو میں
اِک اِک کا منتہائے غرض ہے بس اپنی ذات
’پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں،
ماجدشبانِ تار سا کب سے ہوں منتظر
کب پا سکوں گا حسبِ تمنّا سحر کو میں
ماجد صدیقی

بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 191
اہلِ دل اہلِ نظر اہلِ ہُنر ہونے تک
بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک
پوچھنا چاہو تو اربابِ طرب سے پوچھو
کیا سے کیا چاہیے سُرخاب کا پر ہونے تک
معتقد قیس کے فرہاد کے ہوکر دیکھو
اپنے قدموں میں سجنوا کا نگر ہونے تک
سینہ زوری کوئی برتے کوئی سٹہ بازی
کیا سے کیا منزلیں ہیں صاحبِ زر ہونے تک
یہ تو شاہین ہی جانیں کہ ہے کب تک ممکن
فاختاؤں کا سفر لقمۂ تر ہونے تک
قربِ جاناں کا ہے محدود میّسر آنا
دل کے جل اُٹھنے تلک، آنکھ کے تر ہونے تک
یہ تو ماجد ہی بتائے گا ہے کتنی کتنی
موت سے دست و گریبانی اَمَرہونے تک
ماجد صدیقی

بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 184
ماں کا اور باپ کا گھر یاد آیا
بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا
شیر کا لقمۂ تر یاد آیا
اِک ہرن سینہ سپریاد آیا
عدل میں ٹیڑھ جہاں بھی دیکھی
اپنا اندھیر نگر یاد آیا
اُس سے وُہ پہلے پہل کا ملنا
جیسے گنجینۂ زر یاد آیا
سحر سے جس کے نہ نکلے تھے ہنوز
پھر وہی شعبدہ گر یاد آیا
جب بھی بہروپیا دیکھا کوئی
سر بہ سر فتنہ و شر یاد آیا
میروغالب کی توانا سخنی
ہائے کیا زورِ ہُنر یاد آیا
پڑھ کے ماجد تری غزلیں اکثر
کسی فردوس کا در یاد آیا
ماجد صدیقی

ضَو سے ہر کنکری گُہَر کر دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 157
چاند چہرہ کبھی اِدھر کر دے
ضَو سے ہر کنکری گُہَر کر دے
کاش محصورِ شب دیاروں میں
انگناں انگناں کوئی سحر کر دے
اُس پہ قدرت لٹائے قادر بھی
جس کو وہ صاحبِ ہنر کر دے
شاہ ایسا کوئی بہم نہ ہُوا
بڑھ کے جو زیر کو زبر کر دے
تو کہ ہے خیر بانٹنے والا
کم ہمارے یہاں کی شر کر دے
گردِ ادبار ہے جمی جن پر
اُجلے اُجلے وہ سب نگر کر دے
میں بھی تو چھاؤں بانٹنا چاہوں
تُو مجھے راہ کا شجر کر دے
وُہ کہ جنّت میں ہے جو موعودہ
اس جہاں میں وہ میرا گھر کر دے
زردیاں بھیج کر خزاؤں کی
سارے ہم سوں کو اہلِ زر کر دے
نذرفیض
ماجد صدیقی

سانس بھی دیس میں مشکل ہی سے در آتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 151
ناک کی سیدھ میں چلنے کا ہُنرآتا ہے
سانس بھی دیس میں مشکل ہی سے در آتا ہے
تب پتہ چلتا ہے یہ، پینگ میں جب جھول پڑے
راہ گم کردہ بہت دیر میں گھرآتا ہے
واہمے طَے رہِ منزل نہیں کرنے دیتے
ہاتھ کم کم ہی سجنوا کا نگر آتا ہے
ہرکہیں بانٹتے تم خیر کی سوغات پھرو
گود میں لَوٹ کے بس تحفۂ شر آتا ہے
ہو فرشتہ بھی تو ابلیس کا پَیرَو نکلے؟
گھر میں سُسرال کے، کیسا ہے جو بر آتا ہے
یہ نگر اپنا بھی کیا مزرعۂ شر ہے کہ جہاں
دن کو بھی گھر سے نکلتے ہوئے ڈر آتا ہے
چاہے ماجد! اُسے تُم آن۔۔کہ پہچان کہو
مرتبہ ہاتھ جو آئے تو بہ زر آتا ہے
ماجد صدیقی

لگے ہے جیسے کسی شاہ پر کودیکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
قلم کو دیکھا ہے رختِ ہنر کو دیکھا ہے
لگے ہے جیسے کسی شاہ پر کودیکھا ہے
وہ جس سے سے لمس و قرابت کے ہیں مزے منسوب
بڑی کریدس سے، ہاں اُس شجرکودیکھا ہے
کسی کے دم سے جہاں رونقیں تھیں رقص کناں
بہت اداس بھی پھر اس نگر کودیکھا ہے
شکار ملنے پہ جو سرفراز لگتا تھا
خفیف رُو بھی اسی شیرِ نر کودیکھا ہے
دلوں کے تاج شب و روز ہیں بہم جس کو
بڑے ہیء ٹھاٹھ میں اُس تاجور کودیکھا ہے
وہ جس کی نِت کی دِہاڑی پہ ہو گزر ماجد
کب اُس غریب نے انبارِ زرکودیکھا ہے
ماجد صدیقی

گلی گلی کے بدامنی کے نہ شرر ہوتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 131
کاش فساد سبھی سرکار کے سر ہوتے
گلی گلی کے بدامنی کے نہ شرر ہوتے
ہم نہ پہنچ پائے ایوانوں میں ورنہ
سب کے سب ایوان عوامی گھر ہوتے
لعنت بھجیے ایسی راہنمائی پر
ہم نہ کبھی خودساختہ ملک بدر ہوتے
بول ہمارے بھی سچ ہوتے گر ہم بھی
صاحب رقبہ ہوتے صاحب زر ہوتے
کیا گیا ہوتا گر روشن چہروں کو
بے آباد نہ یئوں یہ اپنے نگر ہوتے
بات کی تہہ میں بھی اے کاش اتر سکتے
شاہ ہمارے گر کچھ اہلِ ہنر ہوتے
ذوق کو شاہ کی قربت کیسے بہم ہوتی
وہ بھی اگر ماجد ہم سے خودسر ہوتے
ماجد صدیقی

گزر رہی ہے اِسی رات کی سحر کرتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
فضائے تار میں تنہا نفس سفر کرتے
گزر رہی ہے اِسی رات کی سحر کرتے
ہے اختلافِ نظر وجہِ خاموشی، ورنہ
ہم اُس کے پیار کا چرچا نگر نگر کرتے
یہ بات قرب کے منصب پہ منحصر تھی ترے
بچا کے رکھتے کہ دامن کو ہم بھی تر کرتے
درِ قفس پہ رُتیں دستکیں تو دیتی رہیں
ہُوا نہ ہم سے کہ ہم فکرِ بال و پر کرتے
جو تو نہیں تھا تو جل جل کے خود ہی بجھتے رہے
ہم اور نذر کسے شعلۂ نظر کرتے
تری نظر کا اشارہ نہ مل سکا، ورنہ
وہ اوج کون سا تھا ہم جسے نہ سر کرتے
ابھی تلک تو نہ مخدوم ہم ہوئے ماجدؔ
اگرچہ عُمر ہوئی خدمتِ ہنر کرتے
ماجد صدیقی

ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
مری صورت ہے جو بے بال و پر ، اچّھا نہیں لگتا
ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا
ذرا سا بھی جو چہرے کو تکدّر آشنا کردے
اُنہیں ہم سا کوئی شوریدہ سر اچّھا نہیں لگتا
بہت کم گھر نفاذِ جبر پر چُپ تھے، سو اچّھے تھے
مگر یوں ہے کہ اب سارا نگر اچّھا نہیں لگتا
قدم بے سمت ہیں اور رہنما منصب سے بیگانہ
ہمیں درپیش ہے جو وُہ سفر اچّھا نہیں لگتا
مثالِ کودکاں بہلائے رکھنا بالغوں تک کو
ہنر اچُھا ہے لیکن یہ ہنر اچّھا نہیں لگتا
چہکنا شام کو چڑیوں کا ماتم ہے گئے دن کا
مگر ماتم یہ ہنگامِ سحر اچّھا نہیں لگتا
گلوں نے جن رُتوں سے ہیئتِ پیغام بدلی ہے
غضب یہ ہے ہَوا سا نامہ بر اچّھا نہیں لگتا
کہیں کیونکر نہ ماجِد زر سے ہی جب سُرخیٔ خوں ہے
نہیں لگتا ہمیں فقدانِ زر، اچّھا نہیں لگتا
ماجد صدیقی

قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
ہُوا ہے درپئے جاں اَب تو ہر سفر جیسے
قدم قدم ہے مرا پل صراط پر جیسے
سُجھا رہی ہیں یہی نامرادیاں اپنی
رہیں گے آنکھ میں کنکر یہ عمر بھر جیسے
سفر میں ہُوں پہ وُہ خدشات ہیں کہ لگتا ہے
جھُلس رہا ہو سرِ راہ ہر نگر جیسے
کہیں تو بات بھلا دل کی جا کے کس سے کہیں
بچھڑ کے رہ گئے سارے ہی ہم نظر جیسے
لپک رہا ہوں مسلسل مگر نہ ہاتھ آئے
کٹی پتنگ ہو اُمید کی سحر جیسے
دہن دہن سے زباں جھڑ گئی ہے یُوں ماجدؔ
خزاں کے دور میں بے برگ ہوں شجر جیسے
ماجد صدیقی

وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

کند ہو چکے جو بھی وُہ مراد بر آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
راحتوں کی صورت بھی بس یہی نظر آئے
کند ہو چکے جو بھی وُہ مراد بر آئے
ہے یہی بساط اپنی نام پر خداؤں کے
معبدوں میں جا نکلے، جا کے آہ بھر آئے
یہ بھی دن دکھا ڈالے حُسن کی اداؤں نے
پھوُل تک سے وحشت ہو چاند تک سے ڈر آئے
ہم سے بھی کوئی پوچھے کُچھ دلوں کی ویرانی
گھوم پھر کے ہم بھی تو ہیں نگر نگر آئے
یوں تو آٹھ پہروں میں نت ہی دن چڑھے ماجدؔ
جس طرح کی ہم چاہیں جانے کب سحر آئے
ماجد صدیقی

بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
جگنو سے سرِمژگاں دہکا کے سحر کرنا
بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا
کوندا سا دلا دینا آنکھوں کی چمک جیسا
ہونٹوں کو تبّسم سے ہمرنگِ شرر کرنا
جاں ہو کہ خیالوں کی بے نام سی بستی وُہ
تم زیرِ نگیں اپنے اِک ایک نگر کرنا
کر ڈالیں تمنّا کو دل ہی سے الگ، لیکن
شاہوں سا ہمیں آئے کب شہر بدر کرنا
ہیں جتنی خراشیں بھی دی ہیں یہ اِسے کس نے
اِس شیشۂ دل پر بھی بھولے سے نظر کرنا
ہم لوگ ہیں وُہ ماجدؔ بالائے زمیں جِن کے
لِکھا ہے نصیبوں میں کولہو کا سفر کرنا
ماجد صدیقی

سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
یابس دنوں کی یاد سے ہے سر بہ سر اداس
سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس
جیسے یہ اب ہیں کُند نہ تھیں اِن کی یوں سُریں
دیکھے نہیں تھے ایسے کبھی نغمہ گر اداس
ساقط ہُوا ہے جیسے اُبھرتے ہی آفتاب
اب کے کچھ اِس طرح سے ہوئے بام و در اداس
حیراں نہیں تھے یوں کبھی اشکوں کے آئینے
اُترا نہیں تھا اِن میں نگر کا نگر اداس
یوں تو اٹا نہ تھا کبھی گردِ سکوت سے
راہوں میں اِسطرح تو نہ تھا ہر شجر اداس
دونوں پہ موسموں کا اثر یوں کبھی نہ تھا
ششدر ہوں میں اِدھر تو اُدھر میرا گھر اداس
جیسے الاؤ پر سے کبوتر گزر کے آئے
لَوٹا ہے اب کے ہو کے بہت نامہ بر اداس
پہروں کے پہر،یُوں کبھی گڈ مڈ ہوئے نہ تھے
شب ہے اداس، شام اداس اور سحر اداس
پُورا ہُوا تو ساتھ ہی گھٹنے لگا یہ چاند
ماجد ہے اِس حیات کا سارا سفر اداس
ماجد صدیقی

میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دیکھنا دیکھنا اک نظر دیکھنا
میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا
میری جانب سے ہے اِک کبوتر اڑا
اُس کی تم منتہائے سفر دیکھنا
دمبدم ہیں رواں جو تمہاری طرف
اور شل ہیں جو، وہ بال و پر دیکھنا
جان لینا اسے تم پیمبر مرا
ایک تارا قریبِ قمر دیکھنا
آنکھ مضطر ہے اور چاہتی ہے کوئی
جسم کی چاندنی کا نگر دیکھنا
ماجد صدیقی

بدن کو لگتا ہے زہر، سایہ ہر اک شجر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 111
کُھلا ہے در، دل پہ جب سے مارِسیہ کے ڈر کا
بدن کو لگتا ہے زہر، سایہ ہر اک شجر کا
ہمیں گوارا ہے عمر جیسے بھی کٹ رہی ہے
کسی سے کرنا ہے ذکر کیا کرب کے سفر کا
کھلی تھی جیسے بساط پہلے ہی ہم پہ اپنی
نہ پوچھ پائے پتہ جبھی یارکے نگر کا
حقیر دشمن دکھائی دیتا ہو جس کسی کو
سلوک کھلیان سے وہ پوچھے کبھی شرر کا
نمک کو جیسا مقام حاصل ہے کھیوڑے میں
ہمارے ہاں بھی ہے حال ایسا ہی کچھ ہنر کا
ہمیں ہی اقرار اب نگاہوں کے عجز کا ہے
ہمِیں نے دیکھا تھا خواب ماجدؔ کبھی سحرکا
ماجد صدیقی

تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
سر جھکانا ہے اُس کے در پہ ہمیں
تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں
بھیج کر اُس نے کب خبر لی ہے
زندگانی کے اِس سفر پہ ہمیں
تتلیوں سی لگے نہ ہاتھ لگے
اعتبار اب نہیں سحر پہ ہمیں
آنکھ اٹھنے نہ دے کسی جانب
زہر کا سا گماں ہے زر پہ ہمیں
ہم سے کہہ کر وہ اپنے آنے کی
ٹانک دیتا ہے بام و در پہ ہمیں
جانے کیونکر گماں صحیفوں کا
ہونے لگتا ہے چشمِ تر پہ ہمیں
جانے کس خوف کی لگے ماجدؔ
چھاپ سی اک نگر نگر پہ ہمیں
ماجد صدیقی

بے اماں ہیں مرے نگر کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
سنسناتے ہیں بام و در کیا کیا
بے اماں ہیں مرے نگر کیا کیا
تجھ سے بچھڑے تو دیکھنا یہ ہے
آنکھ اُگلے گی اب گہر کیا کیا
آنچ ہی سے بدلتے موسم کی
سہم جانے لگے شجر کیا کیا
دیکھنے کو مآل خواہش کا
دل کو درپیش ہیں سفر کیا کیا
چہچہوں کے بلند ہوتے ہی
کاگ جھپٹے ہیں شاخ پر کیا کیا
اذن پرواز کو ترستے ہیں
گرد خوردہ یہ بال و پر کیا کیا
ہم سے کہنے میں حالِ دل ماجدؔ
ہچکچاتا ہے نامہ بر کیا کیا
ماجد صدیقی

اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
دشت میں رہ کا شجر یاد آیا
اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا
پھر تمّنا نے کیا ہے رُسوا
پھر مسیحاؤں کا در یاد آیا
اُس کی آنکھوں سے لہو تک اُس کے
طے کیا تھا جو سفر یاد آیا
جب بھی بچّہ کوئی مچلا دیکھا
مجھ کو سپنوں کا نگر یاد آیا
ہم کو پنجرے سے نکلنا تھا کہ پھر
برق کو اپنا ہُنر یاد آیا
ابر ڈھونڈوں گا کہاں سر کے لئے
لُطف ماں باپ کا گر یاد آیا
کیا کرم اُس کا تھا ماجدؔ کہ جسے
یاد آنا تھا نہ ، پر یاد آیا
ماجد صدیقی

وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا
میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں
انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا
کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی
دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا
تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے
رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا
قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو
بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا
جو شاہ کے کاندھوں کی وجاہت کا سبب ہے
دیکھو تو بھلا تاج ہے کس کاسۂ سر کا
اشکوں سے تَپاں ہے کبھی آہوں سے خنک ہے
اک عمر سے ماجد یہی موسم ہے، نگر کا
ماجد صدیقی

ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
وُہ جس کے نین نقش اپنے ذہن میں اُتر گئے
ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے
خیال قُرب اُسی کا سر پہ ابر سا جھُکا رہا
میانِ دشتِ روزگار ہم جدھر جدھر گئے
تھیں اُس کے مُڑ کے دیکھنے میں بھی عجب مسافتیں
حدوں سے شب کی ہم نکل کے جانبِ سحر گئے
دُھلے فلک پہ جس طرح شب سیہ کی چشمکیں
پسِ وصال ہم بھی کچھ اِسی طرح نکھر گئے
اُسی کی دید سے ہمیں تھے حوصلے اُڑان کے
گیا جو وہ تو جانئے کہ اپنے بال و پر گئے
وُہ جن کے چوکھٹوں میں عکس تھے مرے حبیب کے
وُہ ساعتیں کہاں گئیں وہ روز و شب کدھر گئے
ماجد صدیقی

شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
جس سے لرزاں تھی وُہ ڈر، یاد آیا
شاخ کو، پھر ہے تبر، یاد آیا
حبس سانسوں میں، جہاں بھی اُترا
مُجھ کو ہجرت کا، سفر یاد آیا
چاند تھا جن کا، چراغاں مَیں تھا
پھر نہ وُہ بام، نہ در یاد آیا
زخم سا محو، جو دل سے ٹھہرا
کیوں اچانک، وُہ نگر یاد آیا
کیسی سازش یہ صبا نے، کی ہے
کیوں قفس میں، گلِ ترا یاد آیا
بُوند جب، ابر سے بچھڑی ماجدؔ
مُجھ کو چھوڑا ہُوا گھر، یاد آیا
ماجد صدیقی

کنارِ شام پرندے، شجر پہ اُترے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
تھکن سے چُور ارادے، جگر پہ اُترے ہیں
کنارِ شام پرندے، شجر پہ اُترے ہیں
بِھنک ملی ہے کہاں سے اِنہیں، ضیافت کی
عجیب زاغ ہیں جو، بام و در پہ اُترے ہیں
کوئی بھی کنکری کم از شرر، نہیں جس کی
قدم ہمارے، یہ کس رہگزر پہ، اُترے ہیں
وُہ چاہتوں کے کبوتر، جو ہم نے بھیجے تھے
بھٹک کے جانے کہاں، کس نگر پہ اُترے ہیں
وہ دیکھ فکر کو ماجد، نئی جلا دینے
فضا سے اور بگولے، نظر پہ اُترے ہیں
ماجد صدیقی

جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سجل حویلیوں کی ، بام و در کی بات اور ہے
جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے
محال ہو گیا ہے، دھُند سے جسے نکالنا
چمن میں آرزو کے اُس شجر کی، بات اور ہے
صدف سے چشمِ تر کے، دفعتاً ٹپک پڑا ہے جو
گراں بہا نہیں ، پہ اُس گہر کی بات اور ہے
ہُوئی ہے روشنی سی، جگنوؤں کے اجتماع سے
لگی نہیں جو ہاتھ، اُس سحر کی بات اور ہے
کوئی کوئی ہے شہر بھر میں، تجھ سا ماجدِ حزیں
ہُوا جو تجھ پہ ختم ، اُس ہنر کی بات اور ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑