تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نکل

چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 89
کی ہویا، توُں نہ آئیوں وَل کے
چن پرتے کد، امبروں ڈَھل کے
کل دے دعویدار، عشقے دے
بہہ گئے اج، سواہ منہ مل کے
بے سمتے سہئی، ٹُرپئے آں تے
ہن کی مڑنا، دُور نکل کے
بِڑکاں تے، کن لاندا رہناں
واواں ہتھ، سنہیوڑے گھل کے
جیون پندھ سی، دُوں قدماں دا
کٹیا تُدھ، پر نال نہ چل کے
ماجدُ ایہہ گل، جانے کیہڑا
اج کی اے، کی ہوسی بھل کے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑