تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نقاب

منعکس ذہن میں ہے ہائے یہ کس دَور کا خواب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
رحلِ دل پر اتر آئی ترے چہرے کی کتاب
منعکس ذہن میں ہے ہائے یہ کس دَور کا خواب
ہم سے مانگے ہے وہ خیرات بھی صرفِ جاں کی
اور پاسخ بھی وہ مکتوب کا مانگے ہے شتاب
بام پر تیرے کبوتر کی غٹر غُوں اُتری
دل کہے یہ ترے سندیس کی ہے موجِ شراب
مستقل جان نہ کوئی بھی سہولت وقتی
دیکھنا ٹوٹ نہ جائے کہیں خیمے کی طناب
برق بھی ساتھ ہی ژالوں کے لپکتی لاگے
ایک کم تھا؟ کہ اُتر آیا ہے اک اور عذاب
کیا خبر رحمتِ وافر کی خبر لایا ہو
تیرتاآئے ہے وہ دُور سے اک سُرخ سحاب
ہو بھلے آنکھ مٹّکا وہ کوئی بھی ماجد!
جو بھی ہوتا ہے وہ ہوتا ہے سدا زیرِ نقاب
ماجد صدیقی

ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
کرے تو اور ہی وہ احتساب کرتا ہے
ذلیل کرتا ہے، بے حد خراب کرتا ہے
سنان و تیر و کماں توڑ دے اُسی پر وہ
ستم کشی کو جسے انتخاب کرتا ہے
دمکتا اور جھلکتا ہے برگِ سبز سے کیوں؟
وہ برگِ زرد سے کیوں اجتناب کرتا ہے
بھلے جھلک نہ دکھائے وہ اپنے پیاروں کو
بُلا کے طُور پہ کیوں لاجواب کرتا ہے
گلوں میں عکس وہ ماجد دکھائے خود اپنے
کلی کلی کو وہی بے نقاب کرتا ہے
ماجد صدیقی

کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سر سے تا پا حجاب سا وُہ
کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ
اُبھرے بھی جو سطحِ آرزُو پر
رُوکے نہ رُکے حباب سا وُہ
خوشبُو سا خیال میں دَر آئے
آنکھوں میں بسے گلاب سا وُہ
سب تلخ حقیقتوں پہ حاوی
رہتا ہے نظر میں خواب سا وُہ
حاصل ہے سرشکِ لالہ رُو کا
محجوب سا‘ دُرِّ آب سا وُہ
چھایا ہے بہ لُطف ہر ادا سے
خواہش پہ مری نقاب سا وُہ
ہُوں جیسے، اُسی کے دم سے قائم
تھامے ہے مجھے طناب سا وُہ
بارانِ کرم مرے لئے ہے
غیروں کے لئے عتاب سا وُہ
ماجدؔ ہو یہ جسُتجو مُبارک
ہاتھ آ ہی گیا سراب سا وُہ
ماجد صدیقی

اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا
اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا
اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ
آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا
اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی
کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا
تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب
تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا
تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار
منظر وہ کیا تھا مدِّ مقابل کتاب سا
ماجدؔ نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک
جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑