تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نشانے

تیرے نام جنہیں ٹھہراؤں میں تسبیح کے دانے ہُو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 102
میرے انگناں پھول کھلا دے خوشبودار، سہانے ہُو
تیرے نام جنہیں ٹھہراؤں میں تسبیح کے دانے ہُو
خلقِ خدا کے حق میں میرے خواب وُہ سچّے ہو جائیں
میں جن خوابوں کے بُنتا رہتا ہوں تانے بانے ہُو
حملہ آوروں، قْزّاقوں پر، گُستاخوں، منہ زوروں پر
میں جو تیر چلاؤں کیونکر ملیں نہ اُنہیں نشانے ہُو
میں اپنی بد بختی پر کاہے کو سبب ٹھہراؤں انہیں
نام پہ اچھّوں اور سچّوں کے بنتے ہیں جو فسانے ہُو
جس بھی شخص نے اپنی ریاضت سے قد کاٹھ نکالا ہے
اُس کو بَونے زچ کردیں گے، دِل یہ بات نہ مانے ہُو
کل کچھ بچّے باہم حسرتیں بانٹ رہے تھے یہ کہہ کر
عیدکا چندا ماموں آیا۔۔۔ عیدیاں اُنہیں دلانے ہُو
ننھی چیونٹیوں جیسا عزم لیے دل میں جب نکلا تو
ماجد کو بھی ملے ہیں سخن کی شیرینی کے خزانے ہُو
ماجد صدیقی

اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
رہا تیّار جو جاں تک پہ اپنی کھیل جانے پر
اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر
سکوں کی نیند سو سو کر گنوا کر وقت ہاتھوں سے
نہ جب کُچھ بن پڑے تو لعنتیں بھیجو زمانے پر
شجر کا عجز کیا تھا، رسّیاں تھیں ناتواں کتنی
کھُلے اسرار سارے پِینگ کو خود ہی جھُلانے پر
سرِ شاخِ تمّنا کونپلیں دیکھی ہیں جس دم بھی
گھرے چیلوں کے جھُرمٹ جانے کیا کیا آشیانے پر
نمائش کو سہی پر حسن بھی کب چین سے بیٹھے
کوئی تتلی نہ دیکھی پُر سکوں اپنے ٹھکانے پر
بدلتی ہے نظر، دل کس طرح بے زار ہوتے ہیں
پتہ چلتا ہے ماجدؔ یہ کسی کو آزمانے پر
ماجد صدیقی

کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
جو دل میں پیڑ کے ہے تا بہ لب نہ لانے دے
کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے
کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھُوک دوں میں بھی
مجھے نہ اِتنی اذّیت بھی اے زمانے! دے
دیا ہے جسم جِسے تابِ ضرب دے اُس کو
کماں ہے ہاتھ میں جس کے اُسے نشانے دے
نہ جھاڑ گردِ الم تُو کسی کے دامن پر
جو بوجھ جسم پہ ہے جسم کو اُٹھانے دے
ضمیرِ سادہ منش! وہ کہ مکر پر ہے تُلا
ہمیں بھی ہاتھ اُسے کچھ نہ کچھ دکھانے دے
ہوا کا خُبت ہے کیا؟ یہ بھی دیکھ لوں ماجد!ؔ
کوئی چراغ سرِ راہ بھی جلانے دے
ماجد صدیقی

عہد اُس نے کیا نہ آنے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
اور عنواں ہو کیا فسانے کا
عہد اُس نے کیا نہ آنے کا
ہم نے اُس حُسن کو مقام دیا
ارضِ جاں کے مدھر ترانے کا
کچھ ہِمیں تاک حفظِ جاں میں نہ تھے
علم اُس کو بھی تھا نشانے کا
دھار تلوار کی نگاہ میں ہے
شور سر پر ہے تازیانے کا
وقت خود ہی سُجھانے لگتا ہے
فرق ماجدؔ نئے پرانے کا
ماجد صدیقی

آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی
خم وہی رہ بہ رہ نا مرادوں کے سر
کُو بہ کُو ذی شرف آستانے وہی
فاختائیں دبکتی شجر در شجر
اور زور آوروں کے نشانے وہی
رام کرنے کو مرکب کا زورِ انا
دستِ راکب میں ہیں تازیانے وہی
شیر کی دھاڑ پر جستجو اوٹ کی
اور چھپنے کو ماجد ٹھکانے وہی
ماجد صدیقی

سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دیکھ لئے ہیں، اپنے کیا بیگانے کیا
سینت کے رکھیں، اور اب خواب سہانے کیا
دیکھو آنکھ جما کر، مکر کے مکڑے نے
ہر سُو پھیلائے ہیں تانے بانے کیا
بادل کی یلغار سے، نام پہ رحمت کے
تنکا تنکا، ٹوٹ گرے کاشانے کیا
سوچو بھی، جلتی بگھیا کی آنچ لئے
جھونکے ہم کو آئے ہیں، بہلانے کیا
چڑیاں نگلیں گے، چوزوں پر جھپٹیں گے
شہ زوروں کے ماجدؔ اور نشانے کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑