تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نشانیاں

ہمارے حق میں ہوئیں، گل فشانیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
دلوں پہ کی ہیں سخن نے، گرانیاں کیا کیا
ہمارے حق میں ہوئیں، گل فشانیاں کیا کیا
نظر سے دُور ہیں، سرما کی چاندنی جیسی
دبک دبک کے مچلتی جوانیاں کیا کیا
کمان جب سے تناؤ میں طاق ٹھہری ہے
ہر ایک تِیر نے، پائیں روانیاں کیا کیا
لب و زبان پہ چھالوں، جبیں پہ سجدوں کی
غلامیوں نے ہمیں دیں، نشانیاں کیا کیا
چمن میں ایک سے نغموں کی اوٹ میں ماجدؔ
ہمیں بھی آنے لگیں، مدح خوانیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

ملیں ہَوا کو اُدھر حکمرانیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
گیاہ و برگ کو دیں بے زبانیاں کیا کیا
ملیں ہَوا کو اُدھر حکمرانیاں کیا کیا
بکھر گئی ہیں کسی مور کے پروں کی طرح
درونِ مصحفِ گل تھیں نشانیاں کیا کیا
گھرا ہے جا کے جہاں بھی ہجومِ طفلاں میں
ہوئیں بہ حقِ جنوں چھیڑ خانیاں کیا کیا
خلافِ فتنہ و شر جب بھی مستعد ٹھہریں
الٹ گئی ہیں یہاں راجدھانیاں کیا کیا
گماں تھا جن پہ کہ وہ رشکِ خضر ہیں ماجد
ہمیں اُنہی سے ہوئیں بدگمانیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑