تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نثار

کیوں ہو تجدید ان کی بالتکرار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہو عقیدت کہ ہو نکاح وہ یار
کیوں ہو تجدید ان کی بالتکرار
وہ عنایات کھو گئی ہیں کہاں
رقصِ بادِ صبا و صَوتِ ہزار
جاں بھی مانگو تو اہلِ دل دے دیں
عشق، کم ظرف کا ہے دو، دو، چار
رُوئے گاہک مگن رعایت پر
رُوئے تاجر کا ہے کچھ اور نکھار
حلف اک رہبر و سپاہی کا
وہ لٹیرا ہے، یہ ہے جاں نثار
پینے والا زمیں پہ آن اُترے
جب بھی اُترے ذرا سا مَے کا خمار
دیکھ ماجد کہاں پہ جا پھولے
اپنے من موہن و رفیع و کُمار
ماجد صدیقی
Advertisements

فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
جِسے پسند جہاں بھر کے شہر یار کریں
فغاں کی طرز وُہی ہم بھی اختیار کریں
ہوئے ہیں پھول بھی آمادۂ شرارت کیا
ہمِیں سے ذکر تمہارا جو بار بار کریں
جو مصلحت کو پسِ حرف دَب کے رہ جائے
وُہ بات کیوں نہ زمانے پہ آشکار کریں
ہمیں یہ کرب کہ کیوں اُن سے ربط ہے اپنا
اُنہیں یہ آس کہ ہم جان و دل نثار کریں
لبوں پہ عکس ہے جو آئنہ اِنہی کا ہے
زباں کے زخم بھلا اور کیا شمار کریں
یہ رات کوہ نہیں کٹ سکے جو تیشوں سے
سحر کی دُھن ہے تو کُچھ اور انتظار کریں
کھُلا ہے ہم پہ تمّنا کا حال جب ماجدؔ
تو ایسے کانچ سے کیا انگلیاں فگار کریں
ماجد صدیقی

چرخ کرتا ہے اُس پہ گرد نثار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
جب بھی آئے کبھی چمن پہ نکھار
چرخ کرتا ہے اُس پہ گرد نثار
جس شجر پر سجے تھے برگ اور بار
رہ گئے اُس پہ عنکبوت کے تار
دامنِ وقت جو نہ تھام سکے
عمر بھر کاٹتا ہے وہ بیگار
شیر اُنہیں بھی ہے چاٹنے نکلا
میرے خوں سے بنے جو نقش و نگار
دشت میں تشنہ کام ہرنوں کو
آب ملتا تو ہے مگر اُس پار
سر پہ جب تک ہے آسماں ماجدؔ
آشیاں بھی کہاں ہے جائے قرار
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑