تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نام

ہم غلام، ابنِ غلام، ابنِ غلام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
لے کے سینوں میں پھریں حبس دوام
ہم غلام، ابنِ غلام، ابنِ غلام
پُوچھتا ہے کون مایہ دار اُنہیں
دھوپ میں جاتے ہیں جل جل جن کے چام
فنڈز ڈیموں کے کرو تم غت رَبُود
سَیل کو ٹھہراؤ مقسومِ عوام؟
ہر عقیدہ پختہ تر زردار کا
خام ہے تو ہے یقیں مفلس کا خام
ہے کہاں یاروں کا وہ چنچل طلوع
چاروں جانب کیوں اُتر آئی ہے شام
ہاں ٹھہرتے ہیں وُہی ضَو کے سفیر
جن کے ماتھے ہیں منوّر، جن کے بام
تم سخن ماجد! کہاں ہو لے چلے
اینٹیاں ٹھہریں جہاں یوسف کے دام
ماجد صدیقی
Advertisements

چشمان و جسم میں لگے یکجا نشہ تمام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
شیرین و تلخ ہونٹ لگیں اُس کے اپنا جام
چشمان و جسم میں لگے یکجا نشہ تمام
ضم کر لیا جمال میں اُس نے مرا جلال
میں تھا سراپا تیغ تو وہ سر بہ سر نیام
آب و ہوا سا رزق بھی یکساں ملے نہ کیوں
اوّل سے آج تک ہے مٔوقف مرا مدام
ہاں گُھرکیوں کی آنچ سے محنت کی دھوپ سے
محنت کشوں کے جسم پہ جُھلسا لگے ہے چام
’بِیجا، بغیرِ آبِ توجہ، بنے گا پیڑ
پالا ہے دل میں کب سے یہی اِک خیالِ خام
کِھیسے میں عمر بھر کی کمائی اِسی کے ہے
عمرِ اخیر، جس کو کہیں زندگی کی شام
روشن اُدھر غزل میں ہے باقی کی چھوٹی بحر
پنڈی میں نُوربافتہ اُس کا اُدھر ’’سِہام‘‘
ماجد سخن میں مشق و ریاضت کچھ اور کر
چمکا نہیں ہے، چاہیے، جس طرح تیرا نام
باقی۔۔باقی صدّیقی۔۔سِہام ۔۔باقی کا جنم استھان
ماجد صدیقی

جتنا ترا ہے؟ روشن کس کا نام ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ماجد تجھ پہ خصوصی یہ انعام ہُوا
جتنا ترا ہے؟ روشن کس کا نام ہُوا
پیشِ نظر رہتا ہے ہمیشہ اُس کا بدن
وہ کہ جو تُندیٔ صہبا سے ہے جام ہُوا
جیسا ہوا ہم سے اُس کے دُور ہونے پر
ایسا کس کے بچھڑنے پر کُہرام ہُوا
قاتلِ محسن تک بھی جہاں برحق ٹھہرے
کون اُس دیس سا مفروضوں کا غلام ہُوا
حاکم جیسے تخت پہ اِک دن کو اتریں
سکّہ تک ہے اُن کے سبب سے چام ہُوا
جیسے بُھنے دانوں کا اُگنا ناممکن
اچّھے دنوں کا خواب خیالِ خام ہُوا
ماجد صدیقی

دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے در و بام سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
کوئی تیر چھوٹے کمان سے کوئی تیغ نکلے نیام سے
دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے در و بام سے
بکمال شوخی و شر جسے مرے واسطے تھا بُنا گیا
میں نکل کے پھر مرے قاتلو! ہُوں کھڑا ہُوا اُسی دام سے
مرے آشناؤں کو دیکھئے ذرا چھیڑ کر مرے بعد بھی
پس و پیش میرے، دلوں میں ہیں بڑے وسوسے مرے نام سے
ہے رقم بہ فتح و ظفر ازل سے ورق ورق مرے دوش کا
نہ اُتار پاؤ گے یہ نشہ جسے نسبتیں ہیں دوام سے
ہے عزیز اپنی متاعِ جاں تو نہ ٹھہرئیے مرے سامنے
کہ ہوا کے رخش کو روکنے پہ تُلے ہیں آپ لگام سے
ماجد صدیقی

حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
تو میسّر ہو کسی شب تو یہ اقدام کروں
حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں
حرفِ روشن، تری اُمیدِ ملاقات ایسا
میں حمائل بہ گلُو کیوں نہ سرِ شام کروں
پر سلامت ہیں تو زخموں کو لئے ہر جانب
قصّۂ ضربتِ صیّاد بھی اب عام کروں
ساعتِ نحس جو غالب مرے حالات پہ ہے
ایسی آفت کو اکیلے میں کہاں رام کروں
قائلِ صنعتِ آذر ہوں ہنرمند ہوں میں
میں جو کرتا ہوں تو یوں مدحتِ اصنام کروں
مجھ کو درپیش مسافت ہے رُتوں کی ماجدؔ
سایۂ گل میں جو پہنچوں تو اب آرام کروں
ماجد صدیقی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کھینچتے ہر صبح کی مت شام کر
ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر
اے کہ تُو چاہے کرے شیروں کو زیر
اولاً چڑیاں چمن کی رام کر
جس طرف تیرا گزر ہو اے کلرک!
اُس سڑک کی کُل ٹریفک جام کر
اے دلِ نادان!سب کچھ جاں پہ سہہ
مت مچا تُو شور،مت کُہرام کر
جو بھی دے ماجِد جنم وُہ ہے عظیم
ہو سکے تو دیس کو خوش نام کر
ماجد صدیقی

پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
جگنو جگنو حرف نِکھارے روشن پھر بھی نام نہیں
پل پل ترسے آنکھ جِسے وُہ چاند کنارِ بام نہیں
پانی کی پھنکار یہی ہے تو کب خیر کناروں کی
دریا زور دکھائے گا یہ محض خیالِ خام نہیں
کس کسکے ہونٹوں پر پرکھیں روشن حرف دکھاوے کے
شہر میں ایسا کون ہے جس کی بغلوں میں اصنام نہیں
خوشوں ہی میں سحر ہے وُہ جو پر نہ مکّرر کُھلنے دے
فصلوں پر پھیلانے کو اب ہاتھ کسی کے دام نہیں
ایک سی چُپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو
کچھ ہو جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں
اَب وُہ دَور ہے برسوں جس میں اسکے سِکے چلتے ہیں
آج کے مشکیزوں میں ماجدؔپہلے جیسا چام نہیں
ماجد صدیقی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
ڈرتا ہے کہ اُس پر کوئی الزام نہ آئے
وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے
آنگن میں شبِ تار کی چیخیں ہیں یہ کیسی
ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے
ہم خود ہی سمجھتے ہیں تصوّر میں کچھ ایسا
چندا تو کبھی چل کے سرِبام نہ آئے
اٹھا تھا جو ناؤکے الٹتے سرِ دریا
کانوں میں کہیں پھر وہی کہرام نہ آئے
فیضان بھی ایسا ہی عطا ہونا تھا ان سے
جو لوگ کہ لینے ہمیں دو گام نہ آئے
دیکھی تھی جو اس دل نے کسی موڑ پہ ماجدؔ
ایسی بھی کسی گھر میں کوئی شام نہ آئے
ماجد صدیقی

مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
بظاہر تو وہ ہم سے رام سا ہے
مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے
چمن پر کس نے پھر شب خون مارا
بپا شاخوں میں پھر کہرام سا ہے
بچیں کیوں کر نہ اُس عیّار سے ہم
کہ جس کا دیکھنا بھی دام سا ہے
ہماری برتری یہ ہے کہ ہم پر
کسی کی چاہ کا الزام سا ہے
ہمیں کیا یاد رکھیں گے وہ جن کو
ہمارا نام بھی دشنام سا ہے
نکل کر حلقۂ دامِ ہوس سے
زیاں ہے گو مگر آرام سا ہے
ماجد صدیقی

کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے
کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے
لطف تو یہ ہے رہزن بھی یہ کہتا ہے
دیکھو امن نگر کا بھی ہے نام مرے
جانے کب یوسف ٹھہرایا جاؤں میں
اور زبانوں پر رقصاں ہوں دام مرے
جیسے کلمۂ خیر مخالف کے حق میں
رک جاتے ہیں بس ایسے ہی کام مرے
ہاتھ کبھی تو ہَوا کے لگے گی یہ خوشبو
بول کبھی تو ہوں گے ماجد عام مرے
ماجد صدیقی

مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
مجُھ کو یہ کربِ مسافت بھی ہے، انعام لگا
مُلک سے دُور، بہت دُور مِرا کام لگا
صیدِ تخریب ہوا میں، تو ہُوا عدل یہی
پُرسشِ شاہ کا اعزاز، مِرے نام لگا
دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو
مَیں کہ پختہ تھا عقیدے کا، بہت خام لگا
جب بھی دیکھا ہے تمنّاؤں کا یکجا ہونا
شام کے پیڑ پہ چڑیوں کا وُہ کہرام لگا
اُن کی جانب سے، کہ کھلیان ہیں جن کے ماجدؔ
مُجھ پہ خوشوں کے چرانے ہی کا، الزام لگا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑