تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

نادان

پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ہجرِ جاناں، جان کا تاوان ہونے لگ پڑا
پیار کے سودے میں بھی نقصان ہونے لگ پڑا
جب سے اُلٹا تاج اپنے سر پہ شاہِ وقت نے
ہے وہ کاسہ قوم کی پہچان ہونے لگ پڑا
جس سے بن پوچھے نہیں اٹھتا قدم سردار کا
پینچ بستی کا ہے کیوں دربان ہونے لگ پڑا
جب سے اُس پر ہار کر سب کچھ اُسے دیکھا ہے پھر
دل مرا کچھ اور بھی نادان ہونے لگ پڑا
آن اُترا بام سے چندا وہ دل کی جھیل میں
مرحلہ مشکل تھا جو آسان ہونے لگ پڑا
اِس میں جانے کیا بڑائی سوُنگھ لی عمران نے
پُوت وہ پنجاب کا ہے خان ہونے لگ پڑا
جتنا درس نیک بھی ماجد اسے تو نے دیا
آدمی تھا جو، وہ کب انساں ہونے لگ پڑا
ماجد صدیقی

کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ہم پر طبیبِ وقت کا احسان دیکھنا
کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا
ہنگامِ صبح شاخ پہ کھِلنے لگے ہیں کیوں
غنچوں پہ اِس طرح کے بھی بہتان دیکھنا
سینوں کو ہے جو سانس بہم، اِس فتور پر
لب دوختوں پہ اور بھی تاوان دیکھنا
لے کر خُدا سے مہلتِ فکر و عمل ہمیں
مروا ہی دے نہ پھر کہیں شیطان دیکھنا
فرہاد کو تو قربتِ شیریں دلا چکا
کرتا ہے اور کیا دلِ نادان، دیکھنا
تنکوں کو زورِ موج سے کیا فرصتِ گریز
اَب بھی یہی ہے وقت کا، فرمان دیکھنا
ماجدؔ کہو سخن، مگر اپنی بساط کا
ہونے لگو نہ خود ہی پشیمان دیکھنا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑