تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

مچا

ساعت ساعت جشن منا لے ہنس لے جی لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 128
سانس سانس کا کیف چُرا لے ہنس لے جی لے
ساعت ساعت جشن منا لے ہنس لے جی لے
کھلتی کلیوں کی خوشبو میں تیوری دھو لے
لطف جہاں بھی ملے وہ اڑا لے ہنس لے جی لے
دن کا موتیا رات کی رانی یک جا کرلے
ایک مہک دوجی میں ملا لے ہنس لے جی لے
ہجر کی دھول کو چہرے پر نہیں جمنے دینا
قربتِ یاراں جی میں سنبھالے ہنس لے جی لے
زیب کف لمحات کیے شبنم کے موتی
ساتھ رات کے بھنگڑا ڈالے ہنس لے جی لے
آنکھ میں چبھنے والی ہر تصویر مٹا کے
یاد یاد ماضی کی کھنگالے ہنس لے جی لے
ہاں ماجد یاور کے دیس سے آنے والا
ہرجھونکا سینے سے لگا لے ہنس لے جی لے
ماجد صدیقی

دل نے پتّوں سی ہوا دی کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جاں بدن میں ہی جلا دی کیا کیا
دل نے پتّوں سی ہوا دی کیا کیا
راہ چلتوں کی توجّہ پانے
زر شگوفوں نے لٹا دی کیا کیا
دیکھ کر پوتیوں پوتوں کی روش
رنج گِنوائے ہے دادی کیا کیا
روز خبروں میں دکھائی جائے
گونجتی مرگِ ارادی کیا کیا
کیا ہُوا ہے ابھی کیا ہونا ہے
وقت کرتا ہے منادی کیا کیا
ابر چھایا تو نشہ سا لاگا
اور خبر رُت نے اُڑا دی کیا کیا
ماجد صدیقی

نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
جو سو چکے تھے وُہ جذبے جگا دئیے تُو نے
نظر میں کیا یہ الاؤ جلا دئیے تُو نے
شگفتِ تن سے، طلوعِ نگاہِ روشن سے
تمام رنگ رُتوں کے بھلا دئیے تُو نے
تھا پور پور میں دیپک چھُپا کہ لمس ترا
چراغ سے رگ و پے میں جلا دئیے تُو نے
لباسِ ابر بھی اُترا مِہ بدن سے ترے
حجاب جو بھی تھے حائل اُٹھا دئیے تُو نے
ذرا سے ایک اشارے سے یخ بدن کو مرے
روانیوں کے چلن سب سِکھا دئیے تُو نے
کسی بھی پل پہ گماں اب فراق کا نہ رہا
خیال و خواب میں وہ گُل کھلا دئیے تُو نے
جنم جنم کے تھے سُرتال جن میں خوابیدہ
کُچھ ایسے تار بھی اب کے ہلا دئیے تُو نے
سخن میں لُطفِ حقائق سمو کے اے ماجدؔ
یہ کس طرح کے تہلکے مچا دئیے تُو نے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑