تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

مچاؤں

رُوٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جان لبوں تک لاؤں
رُوٹھا یار مناؤں
مَیں انگناں میں شب کے
گیت سحر کے گاؤں
تپتے صحراؤں پر
ابر بنوں اور چھاؤں
اُجڑے پیڑ ہیں جتنے
برگ اُنہیں لوٹاؤں
خواہش کے ساحل پر
موجوں سا لہراؤں
دُکھتے جسم کو ماجدؔ
کب تک میں سہلاؤں
ماجد صدیقی

یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
تن میں ترے مشعلیں جلاؤں
یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں
چاہت کا وہِسحر تُجھ پہ پھونکوں
رگ رگ میں قیامتیں مچاؤں
تکمیل کروں کبھی تو اپنی
تجھ کو سرِ جسم و جاں سجاؤں
مخفی پسِ لب کلی کلی کے
جو راز ہے، وُہ تجھے بتاؤں
مَیں خود ہی جواب جن کا ٹھہروں
ایسے بھی سوال کُچھ اُٹھاؤں
غنچوں کی چٹک ہو جس پہ شیدا
وُہ زمزمہ اَب کے گنگناؤں
ہر لُطف ہے اِس میں ہر مزہ ہے
ماجدؔ کی غزل ہے کیوں نہ گاؤں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑