تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

منظر

شہروں شہروں، گاؤں گاؤں کیا کیا منظر دیکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
جگہ جگہ غربت کے، مہنگائی کے، اژدر دیکھوں میں
شہروں شہروں، گاؤں گاؤں کیا کیا منظر دیکھوں میں
جن جن کے ابّ و جد نے بھی اُلٹے پیچ لڑائے تھے
جاہ و جلال کی کرسی پر ایسے ہی افسر دیکھوں میں
اپنے یہاں پھیلائیں نہ کیوں؟ ضَو عقل کی دوسری دنیا سی
اپنے مخالف، اپنے بَیری، یوں مہ و اختردیکھوں میں
مکھیوں مکڑیوں سی مخلوق جہاں ہو نامِ رعایا پر
جُھکنا اُن کی فطرتِ ثانی بنتے برابر دیکھوں میں
لوٹ کھسوٹ کی خاطر بازاروں میں مراتھن ریس لگے
جس میں شامل لوگ نہ کیا کیا کہتر و مہتر دیکھوں میں
جیسے لاوارث بچّوں کا ورثہ اُن کے بڑوں میں بٹے
راج راج کے گِدھ ٹولوں میں بٹتے یوں زر دیکھوں میں
پھیلائے جو اپنوں اور غیروں نے نئے اندیشوں کے
شام سویرے پیروں تلے ماجِد وہ اخگر دیکھوں میں
ماجد صدیقی
Advertisements

جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
یادوں کا نقشِ دلنشیں دِل میں کوئی کیونکر نہیں
جو سیر کر دے رُوح کو ایسا کوئی منظر نہیں
وُہ جس جگہ ہے اُس جگہ جانا کسی کا سہل کب
تُجھ بِن صبا! اپنا کوئی اب اور نامہ بر نہیں
ہم آپ تو ہیں دمبخود،ہم سے ملے جو وہ کہے
تُم لوگ ہو جس جَیش میں اُس کا کوئی رہبر نہیں
ہے کس جگہ چلنا ہمیں رُکنا کہاں بِچھنا کہاں
ہے درس ایسا کون سا وُہ جو ہمیں ازبر نہیں
جو دب گیا وُہ صید ہے،چڑھ دوڑتا صیّاد ہے
ابنائے آدم ہیں جہاں،بالائے خیر و شر نہیں
کُچھ یہ کہیں کُچھ وہ کہیں ہم کیاکہیں کیا ٹھیک ہے
ماجِد ہی ذی دانش یہاں، ماجِد ہی دانشور نہیں
ماجد صدیقی

وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
خَیر کے چرچے فراواں اور زیادہ شر یہاں
آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں
جس نے بھی چاہا اُٹھائے رتبۂ نادار کو
کیا سے کیا برسا کِیے اُس شخص پر پتّھر یہاں
سرگرانی جن سے ہو وہ آنکھ سے ہٹتے نہیں
جی کو جو اچّھے لگیں ٹھہریں نہ وہ منظر یہاں
دیکھتے ہیں چونک کر سارے خدا اُن کی طرف
فائدے میں ہیں جو ہیں اعلانیہ، آذر یہاں
کاش ایسا ہو کہ پاس اُس کے خبر ہو خَیر کی
جب بھی آئے کاٹتا ہے ہونٹ، نامہ بر یہاں
اور ہی انداز سے دمکے گی اب اردو یہاں
اس سے وابستہ رہے گر خاورؔ و یاورؔ یہاں
محض گرد و دُود ہی کیا اور بھی اسباب ہیں
سانس تک لینا بھی ماجدؔ ہو چلا دُوبھر یہاں
۱۔ خاقان خاور ۲۔ یاور جواد
ماجد صدیقی

پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 131
مہرباں جس گھڑی تھا ہم پر وُہ
پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ
تھا جسے اختلاف ناحق سے
اب کہاں پاس اپنے بُوذرؑ وُہ
جس کے دیکھے سے پیاس بجھتی ہو
ملنے آئے گا ہم سے کیونکر وُہ
میں کہ مس ہوں جہاں میں مجھ کو بھی
آنچ دیتا ہے کیمیا گر وُہ
جب سے پیکر مہک اُٹھا اُس کا
بند رکھتا ہے روزن و دَر وُہ
کب سے جاری ہے یہ مہم اپنی
ہم سے لیکن نہیں ہُوا سر وُہ
اُس سے ماجدؔ! کہاں کا سمجھوتہ
موم ہیں ہم اگر تو پتّھر وُہ
ماجد صدیقی

مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا
پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما
ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا
اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا
اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا
فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن
مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا
کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا
جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا
کچھ نہیں جن میں معانی منمناہٹ کے سوا
درس کیا سے کیا ہمیں ماجد ہیں ازبر دیکھنا
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

مَیں بدن کا ترے کھُلتا ہوا منظر دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
جب بھی دیکھوں یہ فلک، اَبر ہٹا کر دیکھوں
مَیں بدن کا ترے کھُلتا ہوا منظر دیکھوں
گلشنِ حُسن پہ ہو راج اِسی کا جیسے
ان دنوں مرغِ طلب کو وُہ لگے پر دیکھوں
اوج کے لمس سے پہنچوں بہ سرِ چشمۂ لُطف
پر جو اِیدھر سے اُتر پاؤں تو اُودھر دیکھوں
میری حیرت سے کھلے تُجھ پہ ترا حُسن مگر
آئنوں سا میں جبھی تُجھ کو برابر دیکھوں
لب پہ رقصاں ہے مرے، ہے جو پسِ چشم اُدھر
اِس شرارت میں بپا کتنے ہی محشر دیکھوں
بِین سا سامنے جس کے ترا پیکر گونجے
خواب میں بھی ترے آنگن میں وہ اژدر دیکھوں
شعبدہ ہے، کہ تقاضا یہ تری دید کا ہے
ہر بُنِ مُو میں سمائے ہوئے اخگر دیکھوں
اِک لب و چشم تو کیا اِن کے سوا بھی ماجدؔ
جذبۂ شوق کے کیا کیا نہ کھلے در دیکھوں
ماجد صدیقی

ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
نقش ہُوا ہے پل پل کا شر آنکھوں میں
ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں
پھوڑوں جیسا حال ہے جن کے اندر کا
کھُلتے ہیں کُچھ ایسے بھی در آنکھوں میں
کیا کیا خودسر جذبے دریاؤں جیسے
ڈوب گئے اُن شوخ سمندر آنکھوں میں
ایک وُہی تو نخلستان کا پودا تھا
آنچ ہی آنچ تھی جس سے ہٹ کر آنکھوں میں
آدم کے حق میں تخفیفِ منصب کا
ناٹک سا ہر دم ہے خودسر آنکھوں میں
فصلوں جیسے جسم کٹے آگے جن کے
کرب نہ تھا کیا کیا اُن ششدر آنکھوں میں
ماجدؔ بت بن جائیں اُس چنچل جیسے
پھول بھی گر اُتریں اِن آذر آنکھوں میں
ماجد صدیقی

اہلِ نظر میں بھی ہیں گویا تنگ نظر کے لوگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
مجھ سے کشیدہ رو ہیں کیونکر میرے ہنر کے لوگ
اہلِ نظر میں بھی ہیں گویا تنگ نظر کے لوگ
جیسے کم سن چوزے ہوں مرغی کے پروں میں بند
جبر کی چیلوں سے دبکے ہیں یوں ہر گھر کے لوگ
ہر فریاد پہ لب بستہ ہیں مانندِ اصنام
عدل پہ بھی مامور ہوئے کیا کیا پتّھر کے لوگ
صبح و مسا ان کے چہروں پر اک جیسا اندوہ
منظر منظر ہیں جیسے اک ہی منظر کے لوگ
کچھ بھی نہیں مرغوب اِنہیں، کولہو کے سفر کے سوا
میرے نگر کے لوگ ہیں ماجد اور ڈگر کے لوگ
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑