تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

مسیحا

اور معالج کئی ایسوں کا مسیحا نہ ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 171
کھیل ٹھہرا کسی مجروح کا اِحیا نہ ہُوا
اور معالج کئی ایسوں کا مسیحا نہ ہُوا
جس کی رگ رگ سے ترشّح ہے پُرانے پن کا
یہ کھنڈر سا ہے جو، دِل یہ تو ہمارا نہ ہُوا
کِشتِ جابر پہ رُتیں اور سے اور آتی گئیں
حق میں اُس کے تھا جو چاہا کبھی ویسا نہ ہُوا
دستِ منصف سے قلم اور طرف چل نکلا
رفعتِ دار پہ جو طَے تھا، تماشا نہ ہُوا
ٹیڑھ جو جو بھی تھی اُس کی وہ قبولی ہم نے
صرفِ جاں تک سے بھی کجرو سے گزارا نہ ہُوا
درجنوں ’دیس سنبھالے، کو پُھدکتے اُترے
پر کسی ایک سے بھی اِس کا مداوانہ ہُوا
جو بھی غاصب ہے بچو اُس سے کہ ماجد! اُس کی
نیّتِ خاص کسی کا بھی سہارا نہ ہُوا
ماجد صدیقی

میں آئنہ ہوں ٹھیک سے چہرہ بتاؤں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ہو جس طرح کا۔۔ہاں اُسے ویسا بتاؤں گا
میں آئنہ ہوں ٹھیک سے چہرہ بتاؤں گا
دیکھو! عزیز عزّتِ انساں نہ ہو جسے
خلقت میں، میں اُسے ہی کمینہ بتاؤں گا
شوہرہے محترم، تو ہے بیوی بھی محترم
میں جاں نثار اُس کو بھی ماں سا بتاؤں گا
جرّاحِ بے مثال جو اِس دَورِ نو کے ہیں
ہر حال میں اُنہیں میں مسیحا بتاؤں گا
خلقت کی رہ سے جو بھی ہٹائیں رکاوٹیں
میں اُن سبھوں کو عہد کا آقا، بتاؤں گا
بہرِ عوام نظم ہو ڈھیلا جہاں، وہاں
ہر دل کو آئنوں سا شکستہ بتاؤں گا
قاری ہی خوب و زشت کہیں جوکہیں، کہیں
ماجد سخن کے باب میں میں کیا بتاؤں گا
ماجد صدیقی

تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
صحنِ امروز میں بچپن کا اُجالا مانگوں
تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں
بہرِ عرفان، عطا زیست مکّرر ہو اگر
میں جو مانگوں تو فقط دیدۂ بینا مانگوں
ہونٹ مانگوں وہ تپش جن سے، سخن کی جھلکے
اور درونِ رگِ جاں، خون مچلتا مانگوں
حرفِ حق منہ پہ جو ہے، اُس کی پذیرائی کو
پیشِ فرعون، خدا سے یدِ بیضا مانگوں
جس نے دی عمر مجھے، وام ہی، چاہے دی ہے
وہ سخی مدِّ مقابل ہو تو کیا کیا مانگوں
جو بھی دیکھے اُسے صنّاع مرا، یاد آئے
میں سرِ خاک بس ایسا قدِ بالا مانگوں
جس پہ ٹھہرے نہ کوئی چشمِ تماشا ماجدؔ
لفظ در لفظ وہ معنی کا اُجالا مانگوں
ماجد صدیقی

کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
جنگِ خلیج کے پس منظر میں
ماجد صدیقی

اتنا میٹھا ہے کہ کڑوا لاگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
کیا کہیں کیسا وُہ اچّھا لاگے
اتنا میٹھا ہے کہ کڑوا لاگے
جُھوٹ اُس نہج کو پہنچا ہے کہ اَب
حق سرائی بھی تماشا لاگے
ہاتھ شہ رگ پہ بھی رکھتا ہے مدام
وُہ کہ ظاہر میں مسیحا لاگے
دردمیں اَب کے وُہ شدّت اُتری
آنچ بھی جس کا مداوا لاگے
جیسے اپنا ہی چلن ہو ماجدؔ
مکر اس طور سے دیکھا لاگے
ماجد صدیقی

فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا کہیں ذی مرتبت کتنے تھے اور کیا ہو گئے
فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے
کونپلیں کیا کیا نہیں جھلسی ہیں بادِ مکر سے
گلستاں امید کے، کیا کیا نہ صحرا ہو گئے
جن دنوں کی چاہ میں بے تاب تھی خلقت بہت
شو مئی قسمت سے وہ دن اور عنقا ہو گئے
خُبث کیا کیا کھُل گیا اُن کا بھی جو تھے ذی شرف
نیّتوں کے جانے کیا کیا راز افشا ہو گئے
دم بخود ٹھہرے ہیں اُن کی پاک دامانی پہ ہم
قتل کرنے پر بھی جو ماجد مسیحا ہو گئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑