تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

مدّعا

گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 178
برق و باد کو ہم نے یوں جلا بُھنا پایا
گھونسلے میں لوٹے تو گھونسلا جلا پایا
پیار کے لبادے میں گائے دوہ ڈالی ہے
ہم نے کیا سبھوں نے یوں اپنا مدّعا پایا
مُزدکش کسانوں نے بند باندھنے کیا تھے
کھیت کھیت ژالوں نے راستہ کُھلا پایا
اور سب کو رہنے دو پُھول بھی کِھلے جب تو
جس کو چھیڑ کردیکھا اُس کے باحیا پایا
جو ہُنر بھی آتا تھا وہ دکھا کے بندر نے
حظ اُٹھانے والوں کو بُت بنا کھڑا پایا
جس کو مِل گئی کُرسی، جس کو مِل گئے ٹھیکے
اور اِک محل اُس کا شہر میں اُٹھا پایا
جو ذراسا بھی اُترا تیرے خِظّۂ فن میں
اُس نے آخرش ماجد لطفِ بے بہا پایا
ماجد صدیقی

لب و زبان پہ نامِ خدا کا چرچا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 137
پسِ یقیں ہے جو حرص و ہوا کا چرچا ہے
لب و زبان پہ نامِ خدا کا چرچا ہے
نقاب میں بھی جو ہے بے نقاب، آنکھ ہے وہ
اُدھر بس آنکھ میں شرم و حیا کا چرچا ہے
یہ آئی ہے چمنب قُرب سے ترے ہو کر
سحر سحر جو یہ بادِ صبا کا چرچا ہے
ہے جس کے نام پہ شاید اس خبر بھی نہیں
سخن میں یہ جو کسی آشنا کا چرچا ہے
اسے خلافِ ریاست بھی گر کہیں تو بجا
کہ میڈیا کا غضب انتہا کا چرچا ہے
یہ لیڈروں کی نظر فوج پر ہی کیوں ہے لگی
بیاں بیاں میں یہ کس مدّعا کا چرچا ہے
ملے بھی تو کئی برسوں میں شاذ شاذ ملے
فقط خبر ہی ماجد سزا کا چرچا ہے
ماجد صدیقی

کسی پہ راز ہمارا ابھی کھُلا ہی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 95
ہیں لب کشا بھی مگر جیسے کچھ کہا ہی نہیں
کسی پہ راز ہمارا ابھی کھُلا ہی نہیں
بھنور بھی جھاگ سی بس سطحِ آب پر لایا
جو تہہ میں ہے وُہ ابھی تک اُبھر سکا ہی نہیں
ہمیں جو ہوش میں لائے تو زلزلہ ہی کوئی
وہ بے حسی کا نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں
یہ کیسا عام ہے اعلانِ صحتِ یاراں
ہمیں جو روگ تھا وہ تو ابھی گیا ہی نہیں
شکستِ دل بھی شکستِ حباب تھی جیسے
فضائے دہر میں اُٹھی کوئی صدا ہی نہیں
کسی پہ حال ہمارا عیاں ہو کیا ماجدؔ
کھُلا کسی پہ کبھی حرفِ مدّعا ہی نہیں
ماجد صدیقی

بنی ہے جان پہ جو کچھ بھی برملا کہئیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
مثالِ برگِ خزاں اپنا ماجرا کہئیے
بنی ہے جان پہ جو کچھ بھی برملا کہئیے
بہ دامِ موج وُہ اُلجھا گیا ہے کیا کہئیے
نہنگ جانئیے اُس کو کہ ناخدا کہئیے
ہمارے دم سے سہی اَب تو سربلند ہے وُہ
اسے بھی عجز کا اپنے ہی اِک صلا کہئیے
جھڑی ہے دُھول شجر سے اگر بجائے ثمر
تو کیوں نہ وقت کی اِس کو بھی اِک عطا کہئیے
زباں کے زخم پُرانے یہی سُجھاتے ہیں
کہ اب کسی سے بھی دل کا نہ مدّعا کہئیے
بہ شاخِ نطق یہ بے بال و پر پرندے ہیں
نہ شعر کہئیے اِنہیں حرفِ نارسا کہئیے
نگاہ رکھئے زمینِ چمن پہ بھی ماجدؔ
خزاں کو محض نہ آوردۂ صبا کہئیے
ماجد صدیقی

ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
تبر بہ دست بھی ہے جس کا آسرا ہے مجھے
ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے
رہِ سفر کا مرے رُخ ہی موڑ دے نہ کہیں
یہ دستِ غیب سے پتّھر جو آ پڑا ہے مجھے
جو دے تو میری گواہی وہ شاخِ سبز ہی دے
پنہ میں جس کی یہ تیرِ قضا لگا ہے مجھے
عجب عذاب ہے یہ تہ رسی نگاہوں کی
چٹک کلی کی بھی اب خاک کی صدا ہے مجھے
میں اُس مقام پہ ماجدؔ پہنچ گیا ہوں جہاں
یہ خامشی بھی تری حرفِ مدّعا ہے مجھے
ماجد صدیقی

ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ہر آن بدن پہ بوجھ سا ہے
ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے
جس میں نیا رنج روز اُترے
دِل ایسا ہی فرد آئنہ ہے
ہر سمت شروع میں سفر کے
دیکھا ہے جِدھر بھنور نیا ہے
رفعت کا ہے جو بھی اگلا زینہ
لاریب وُہ قوّت آزما ہے
اعصاب پڑے ہیں ماند جب سے
ہر تازہ سفر کٹھن سَوا ہے
بارش کو ترستا مُرغِ گِریاں
ماجِد! ترا حرفِ مُدّعا ہے
ماجد صدیقی

دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ہو چلی ہے ہر آشا یُوں گریز پا جیسے
دشت پر سے بادل کو لے اُڑے ہوا جیسے
کھِل نہیں سکی اُس کے سامنے کلی دل کی
دب گیا ہے ہونٹوں میں حرفِ مدّعا جیسے
چشم و لب کے آنگن میں ہو غرض کا موسم تو
بن کے بیٹھ رہتا ہے ہر کوئی خُدا جیسے
حال ہے کچھ ایسا ہی آج کے مؤرخ کا
داستاں لکھے اپنی کوئی بیسوا جیسے
رو پڑا ہے کیوں، دیکھو، ہاتھ میں سے بچّے کے
گِر گیا ہے، لگتا ہے، پھر سے جھنجھنا جیسے
اِس زمیں کا ہر خطّہ حرص کے حوالوں سے
یُوں لگے کہ ہونا ہو دشتِ کربلا جیسے
دل کی بات بھی ماجدؔ کھوکھلی ہوئی ایسی
زیرِ آب سے اُٹھے موجۂ صدا جیسے
ماجد صدیقی

لب پہ لانے لگی پھر سخن پیار کا، رقص کرتی ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
سن ذرا اے صنم! گنگناتی ہے کیا، رقص کرتی ہوا
لب پہ لانے لگی پھر سخن پیار کا، رقص کرتی ہوا
چُھو کے تیر ا بدن تیری لہراتی زلفیں ترا پیرہن
تجھ سے کہتی ہے کیا کیا مرا مدّعا ،رقص کرتی ہوا
ساتھ لاتی ہے کیا کیا تم ایسے نہ گھونگھٹ بناتی ہوئی
تیرا رنگِ حیا تیرا رنگِ قبا رقص کرتی ہوا
ماجد صدیقی

درِ زنداں ہمیں پر ہی کھُلا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 133
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
درِ زنداں ہمیں پر ہی کھُلا ہے
شکستِ آرزو کا رنج دل میں
زباں پر منجمد حرفِ دُعا ہے
وہی ہونا ہے، ہیں آثار جس کے
یہ دل کن وسوسوں میں مبتلا ہے
کسی پیاسے کو جیسے موج دیکھے
کُچھ ایسے ہی ہمیں وُہ دیکھتا ہے
ترستا ہے کسی دستِ طلب کو
گلاب اِک باڑھ سے نت جھانکتا ہے
اُسے چھیڑیں نہ ہم اُکتا کے اُس سے
یہی اُس شوخ کا بھی مُدّعا ہے
عِناں جب ہاتھ میں دل کی ہے اُس کے
وُہ جو کچھ بھی کرے ماجدؔ! روا ہے
ماجد صدیقی

ہے نشہ اُس کی یاد کا اور میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
جھومتے ہیں یہ گل، ہوا اور مَیں
ہے نشہ اُس کی یاد کا اور میں
کھوجتے ہیں اسی کی خوشبو کو
مل کے باہم سحر، صبا اور میں
کس کی رہ دیکھتے ہیں ہم دونوں
موسموں سے دُھلی فضا اور میں
صورتِ موج، مضطرب ٹھہرے
اس سے ملنے کا مدّعا اور مَیں
صید ہیں کب سے نامرادی کے
کلبلاتی ہوئی دعا اور میں
زندگی بطن میں ہے کیا ماجدؔ
جانتے ہیں یہ ہم، خدا اور مَیں
ماجد صدیقی

کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
لے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھی
کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی
کیا ہم سے مِلا سکے گا آنکھیں
ہو تجھ سے کبھی جو سامنا بھی
سہمی تھی مہک گلوں کے اندر
ششدر سی مِلی ہمیں ہوا بھی
جس شخص سے جی بہل چلا تھا
وہ شخص تو شہر سے چلا بھی
کیوں نام ترا نہ لیں کسی سے
اَب قید یہ ہم سے تُو اُٹھا بھی
ماجدؔ کو علاوہ اِس سخن کے
ہے کسبِ معاش کی سزا بھی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑