تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ماؤں

سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
شہر کی ناآسودگیاں اور اُجڑی یادیں گاؤں کی
سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی
آمر آمر کے سائے میں خلقِ خدا نے پنپنا کیا
رات کی رانی پلنے لگی ہے کوُکھ میں کب صحراؤں کی
وہ بھی کسی کسی بختاور کے حصے میں آتی ہے
آخر کو سرہانے سجتی ہے جو تختی ناؤں کی
کھیل میں بد خُلقی کے ناتے وہ کہ ہے جو شہ زور بنا
زِچ لگتا ہے کیا کیا،کوشش کرتے آخری داؤں کی
بھلے وہ حق میں ہو اولاد کے، خالص اور پوِتّر بھی
پھولنے پھلنے پائی ہے کب چاہت بیوہ ماؤں کی
ہم کہ جنموں کے ہیں مسافر مغوی طیّاروں کے،ہمیں
جانے کیا کیا باقی ہے ملنی تعزِیر خطاؤں کی
بادلوں میں بھی دیکھو ماجِد ابکے یہ کیا پھوٹ پڑی
چھائے دشت نوردوں کے سر ٹُکڑی ٹُکڑی چھاؤں کی
23مارچ07 کواسلام آباد سے امریکہ کے سفر کے دوران فلائٹBA-128میں لکھی گئی ایک غزل
ماجد صدیقی

سپنے سکُھ کی چھاؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
نقش بنے صحراؤں کے
سپنے سکُھ کی چھاؤں کے
دیدۂ تر کو مات کریں
دشت میں چھالے پاؤں کے
دیکھیں کیا دکھلاتے ہیں
پتّے آخری داؤں کے
پیڑ اکھڑتے دیکھے ہیں
کِن کِن شوخ اناؤں کے
ابریشم سے جسموں پر
برسیں سنگ جفاؤں کے
خرکاروں کے ہاتھ لگیں
لعل بلکتی ماؤں کے
ماجدؔ دیہہ میں شہری ہم
شہر میں باسی گاؤں کے
ماجد صدیقی

انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دم توڑتی چیخوں کے مبہوت صداؤں کے
انداز کہیں، کیا کیا تیور ہیں خداؤں کے
اُٹھے تھے جو حدّت سے فصلوں کے بچانے کو
سایہ نہ بنے کیونکر وُہ ہاتھ دُعاؤں کے
کیا جانئیے بڑھ جائے، کب خرچ رہائش کا
اور گھر میں نظر آئیں، سب نقش سراؤں کے
ٹھہرے ہیں جگر گوشے لو، کھیپ دساور کی
بڑھ جانے لگے دیکھو، کیا حوصلے ماؤں کے
رودادِ سفر جب بھی، چھِڑ جانے لگی ماجدؔ
لفظوں میں اُترا آئے، چھالے تھے جو پاؤں کے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑