تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

لے

جمہور ہی کی ترجماں، جمہور کے در پَے یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
تھوتھا چنا باجے گھنا، حزبِ مخالف ہے یہاں
جمہور ہی کی ترجماں، جمہور کے در پَے یہاں
جابر ہیں کچھ منہ زور بھی، ساتھ اُن کے ہیں خوشامدی
چیتوں کی ہے چنگھاڑ بھی’بکروں کی ہے بَے بَے یہاں
راگوں میں فائق جو ہُوا، رختِ خلائق جو ہُوا
جو راگ مرگ آثار ہے فریاد کی ہے لَے یہاں
اُن کے لیے، نادار ہیں بستے جو بے گھر بار ہیں
نایاب ہے بازار میں خوراک کی ہرشَے یہاں
بزم سرورِ عشق میں ہر آن دیتی ہے نشہ
چشمِ غزالی یار کی برسائے ہے جو مَے یہاں
ہاں جو بھلے کے بول ہیں، بے وز ن ہیں بے تول ہیں
جو ڈُگڈُگی لہرائے ہے ہو جائے اُس کی جَے یہاں
جو بَیل کولہو میں جُتے، ہم ہیں اُسی کے ہمقدم
جو کچھ ہمیں ہے دیکھنا، پہلے سے ہے وہ طَے یہاں
پَون صدی سے ایک سے احوال کیوں کیوں ہوئے
ماجد ہے بے لطف و سکوں جینا ہمیں تا کَے یہاں
ماجد صدیقی
Advertisements

برسے غضب ، جو قسطوں میں مرنے سے بچا لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
چوزوں جیسا، پروں تلے سے اُچک لے، اٹھا لے
برسے غضب ، جو قسطوں میں مرنے سے بچا لے
ماجد صدیقی

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑