تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

لخت

طرّۂ امتیاز ہے، لاج ہے، وہ ہے پت مری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 114
وہ کہ سخن کے نام پر ٹھہری ہے سلطنت مری
طرّۂ امتیاز ہے، لاج ہے، وہ ہے پت مری
میں کہ ہوں صاحبِ شرف اور خدا کا شاہکار
بیچ ملائکہ کے بھی کیا کیا بنی نہ گت مری
جن کو جز اپنی ذات کے سوجھے نہ وقرِ دیگراں
ایسے سبھوں کے منہ پہ ہے لعن مرا، چپت مری
عجزونیاز کا سبب جس سے بھی پوچھیے، کہے
میں کہ غلام رہ چکا، جاتی نہیں یہ لت مری
خائنِ بے مثال سے پوچھاتو اس نے یہ کہا
ہاں جو جواریوں کی ہو، ہاں ہے وہی بچت مری
ڈھونڈے ہوں لفظ لفظ کا کیا ہے وجودکیاعدم
جب سے ہوئے کبیدہ رُو، گوش مرے سُنَت مری
ماجد سادہ لوح ہوں میں کہ مجھے پتہ نہیں
کندہ بہ بام اوج ہے، شعر مرا لخت مری
ماجد صدیقی

آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
جو بھی بہ زور و مکر ہے والیٔ تخت ہُوا
آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا
اِک آمر ایسا بھی ہمِیں نے دیکھا جو
خبطِ مسیحائی کے سبب صد لخت ہُوا
مجبوروں نے جبر سہا تو جابر کا
ہوتے ہوتے اور رویّہ سخت ہُوا
ہم ٹھہرے مُحتاج تو برق و رعد ایسا
موسم کا لہجہ کُچھ اور کرخت ہُوا
خود ہی نکلے ہر مشکل ہر علّت سے
ماجد ہم سوں کا شافی کب بخت ہُوا
ماجد صدیقی

مرا سرِیر زمانے میں جب دو لخت نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
سیاہ زیرِ فلک اِس قدر بھی بخت نہ تھا
مرا سرِیر زمانے میں جب دو لخت نہ تھا
بہ اوجِ شاخ جُھلانے ہمیں بھی آتی تھی
وہ دن بھی تھے کہ روّیہ ہوا کا سخت نہ تھا
ہوئے شکار کسی کی حقیر خواہش کے
وگرنہ پاس کچھ ایسا گراں بھی رخت نہ تھا
یہ جانتا تھا فلک بھی کہ آشیاں کے سوا
چمن میں اپنے تصرّف میں کوئی تخت نہ تھا
اِسے یہ رنگ سلاخوں نے دے دیا ورنہ
چمن میں تو مرا لہجہ کبھی کرخت نہ تھا
گیا اجاڑ ہمیں اُس کا روٹھنا ماجدؔ
وہ شخص جو کہ بظاہر ہمارا بخت نہ تھا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑