تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

لب

یہی موضوع نطق و لب کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 149
ہم سے الجھاؤ جَورِ شب کا ہے
یہی موضوع نطق و لب کا ہے
کیوں وہ غُرّا کے کھوئے وقر اپنا
رنج بس اُس کے اِس تعب کا ہے
نت اسے ڈھونڈتے ہیں از سر نو
وہ جو بچھڑا نجانے کب کا ہے
کوئی قانون کی نہ بات کرے
حکمِ حاکم نصیب سب کا ہے
ہم نہیں جنگلی پہ جنگلیوں سا
ہم پہ الزام کیوں غضب کا ہے
پہلی سیڑھی سے نت سفر ہو شروع
اپنا جینا کچھ ایسے ڈھب کا ہے
دشمنیء ہے نصیب اوروں کا
یہ جو ماجد ہے دوست سب کا ہے
ماجد صدیقی

اشک اُس چنچل کی آنکھوں میں ہے کوکب ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
آسماں پر چاہ کے آٗینۂ تب ہو گیا
اشک اُس چنچل کی آنکھوں میں ہے کوکب ہو گیا
ملک ہارا، جنگ ہاری، راہنما چَلتا کِیا
یہ ہُوا وہ بھی ہُوا، ہونا تھا جو سب ہو گیا
کیا کہیں تبلیغ خُوش خُلقی کی کیوں غارت ہوئی
کج ادائی کج روی جینے کا ہی ڈھب ہو گیا
شہرتوں کی چوٹیوں پر سب مخولی جا چڑھے
شاعری سا فن اداکاروں کا کرتب ہو گیا
اوّل اوّل اہلِ دُنیا کو وُہ لرزاتا رہا
آخر آخر آدمی خود لرزۂ لب ہو گیا
میرزا غالب کو اندازہ بھی تھا، دعویٰ بھی تھا
اور وُہی اَوجِ سخن میں سب سے اغلب ہو گیا
تھا تصوّر ہی کہ ماجد جامِ جم تھا بھی کہیں؟
ہر کسی کا اپنا پی سی، جامِ جم اب ہو گیا
ماجد صدیقی

وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
مجھ سے جو چھن گئے،میرے رب موڑ دے
وہ جو پُر لطف تھے روزوشب موڑ دے
فاختاؤں کے حق میں خلافِ ستم
رگ بہ رگ تھا جو رنج و تعب موڑ دے
ساتھ اپنے ہی جس میں سخن اور تھے
خلوتوں کی وہ بزمِ طرب موڑ دے
جس سے مُکھ تھا انگاروں سا دہکا ہوا
مُو بہ مُو تھی جو وہ تاب و تب موڑ دے
الجھنوں کا تھا جن پر نہ سایہ تلک
ہاں وہ لمحاتِ خندہ بہ لب موڑ دے
نام اوروں کے جتنے شرف ہیں مرے
مجھ کو موڑے نہ تھے جو، وہ اب موڑ دے
رنج جو بھی ملے ،عفو کی شکل میں
دینے والوں کو ماجِد وہ سب موڑ دے
ماجد صدیقی

مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
بہت یاد آؤں گا ہر شخص کو جب میں نہیں ہوں گا
مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا
مری قامت نہیں تسلیم جن بَونوں کو اب، وہ بھی
دلائیں گے مجھے کیا کیا نہ منصب، میں نہیں ہوں گا
سحر پھوٹے گی آخر جگنوؤں سے میرے حرفوں کے
یہ ہو گا پر ہُوا جب اس طرح تب میں نہیں ہوں گا
نہ جانیں گے خمیر اِس کا اٹھا کن تلخیوں سے تھا
مرا شیریں سخن دہرائیں گے سب میں نہیں ہوں گا
یقیں ہے انتقاماً جب مجھے ظلمت نگل لے گی
مرے فکر و نظر ٹھہریں گے کوکب میں نہیں ہوں گا
جتانے کو مری بے چینیاں آتے زمانوں تک
پسِ ہر حرف دھڑکیں گے مرے لب میں نہیں ہوں گا
ملا جو صرفِ فن ہو کر مجھے اظہار کا ، ماجِد
سبھی ترسیں گے اپنانے کو وہ ڈھب میں نہیں ہوں گا
ماجد صدیقی

رنج کا اور بھی سبب نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
اک تغافل ہی اُس کا کب نکلا
رنج کا اور بھی سبب نکلا
غیر بھی ہم سے جب ہُوا رسوا
دل میں کانٹا تھا جو وہ تب نکلا
آپ کچھ کہہ کے مطمئن تو ہوئے
شکر ہے آپ کا تعب نکلا
بات جب چھڑ گئی شقاوت کی
دل میں جو تھا غبار سب نکلا
پنجۂ موجِ درد سے مَیں بھی
بچ گیا گرچہ جاں بہ لب نکلا
کیا مسافت کرے گا طے ماجدؔ
دن چڑھے تُو جو گھر سے اَب نکلا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑