تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

لاتے

بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
بھرم مرا نہ گنواتے اگر بُرا کیا تھا
بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے روٹھ کے جانے سے جو ہوا برپا
وہ حشر تم نہ اٹھاتے اگر بُرا کیا تھا
وہی جو تیر سی میرے بدن کو چیر گئی
وہ بات منہ پہ نہ لاتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے ہجرِمسلسل سے جو الاؤ بنی
اس آگ میں نہ جلاتے اگر بُرا کیا تھا
تم ہی تو تھے جو مرا دم تھے، دل کی دھٹرکن تھے
سفر میں ساتھ نبھاتے اگر بُرا کیا تھا
ماجد صدیقی

کیوں مرا ظرف آزماتے ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
جاں نثاری کے شہ دلاتے ہو
کیوں مرا ظرف آزماتے ہو
شاخ کو سر بلند ہوتے ہی
کتنے حیلوں سے تم جھکاتے ہو
جی کو جچتا نہیں ہے کیوں جانے
حرف جو بھی زباں پہ لاتے ہو
شکل احوال کی ہے کیا اور تُم
اُن کی تصویر کیا دکھاتے ہو
تُم بھی کیا سادہ لوح ہو ماجدؔ!
آنسوؤں سے دیے جلاتے ہو
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑