تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

لائیں

بات دل کی نہ منہ پہ لائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 115
کلبلائیں کہ جاں سے جائیں ہم
بات دل کی نہ منہ پہ لائیں ہم
ہے بھنور بھی گریز پا ہم سے
کس کی آنکھوں میں اب سمائیں ہم
ہے تقاضا کہ بات کرنے کو
چھلنیاں حلق میں لگائیں ہم
مہر سے ضو طلب کرے ماجد!
دل ہے وحشی اِسے سدھائیں ہم
ماجد صدیقی

وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم
وُہ کون حقیقت ہو جس کو، ایقان کی منزل ٹھہرائیں
تکفیر ہو کس کس منظر کی اور کس پر ایماں لائیں ہم
نسلوں تک گروی رکھ کر ہم، کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں
کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اِترائیں ہم
اغراض کا عرفاں ہونے پر مُنہ نوچیں ہر سچّائی کا
دھجّی دھّجّی ہر قول کریں، گر عہد کریں، پھر جائیں ہم
جو عیش ہمارا ہے چاہے بن جائے سزا اوروں کے لئے
جس حرص نے یہ اعزاز دیا، اُس حرص سے باز نہ آئیں ہم
یہ بات کہی جگنو نے ہمیں، تھک ہار کے تیرگیٔ شب میں
ہے حرفِ منّور جو بھی کوئی ماجدؔ نہ زباں پر لائیں ہم
ماجد صدیقی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑