تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

قمر

جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
آنکھوں سے تری جو ہویدا ہے وہ کیف کسی منظر میں کہاں
جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں
تُو بات کرے توپھول جھڑیں مستی چھلکے تری آنکھوں سے
جو طنطنہ تیرے سخن میں ہے وہ اور کسی کے ہنر میں کہاں
جو باس جلو میں ترے ہے سجن کیا کہنے اُس کی تمازت کے
جو تیری نگاہ میں ہے جاناں! گرمی وہ حصولِ زر میں کہاں
تن من کو جو پل میں جگا ڈالے مائل جو کرے جل مِٹنے پر
جو آنکھ تری میں شرارت ہے، وہ اور کسی بھی شرر میں کہاں
جو ذہن و بدن کو جِلا بخشے، حدّت جو لہو کو دلاتی ہے
جو یاد تری سے ہے وابستہ وہ تازگی رُوئے قمر میں کہاں
قدموں میں جو تاب و تواں اُتری کب جسم میں ایسی توانائی
چلنے میں شرف ہے جو سمت تری وہ اور کسی بھی سفر میں کہاں
جس عمر میں چاہتے ہو کہ بڑھو پھر رفعتِ قاف کی جانب تُم
ایسی بھی توانائی ماجِد! اِس عمر کے بال و پر میں کہاں
ماجد صدیقی

میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دیکھنا دیکھنا اک نظر دیکھنا
میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا
میری جانب سے ہے اِک کبوتر اڑا
اُس کی تم منتہائے سفر دیکھنا
دمبدم ہیں رواں جو تمہاری طرف
اور شل ہیں جو، وہ بال و پر دیکھنا
جان لینا اسے تم پیمبر مرا
ایک تارا قریبِ قمر دیکھنا
آنکھ مضطر ہے اور چاہتی ہے کوئی
جسم کی چاندنی کا نگر دیکھنا
ماجد صدیقی

ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رگ بہ رگ پیہم لئے برگ و ثمر کا انتظار
ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار
کوئی منزل ہو ٹھہرتی ہے وہ کیوں مل کر سراب
ہر مسافر کو ہے کیوں تازہ سفر کا انتظار
رزق تک بھی روٹھنے کو جیسے ہم ایسوں سے ہے
جو بھی ہے کھلیان اُس کو ہے شرر کا انتظار
کاوشِ اظہارِ حق سے کب بہم ہو گا اِنہیں
اہلِفن کو جانے کیوں ہے سیم و زر کا انتظار
تشنہ لب خوشوں کی آنکھیں بوندیوں پر ہیں لگی
بحر کو بہرِ تموّج ہے قمر کا انتظار
اک سے اک بے جان سُورج اپنے پہلو میں لیے
ہر سحر سونپے ہمیں، اگلی سحر کا انتظار
کرب کے آنسو طرب کے آنسوؤں میں کب ڈھلیں
آنکھ کو ماجدؔ ہے کیوں پھر بھی گہر کا انتظار
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑