تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

طیور

ماجد بدن تھا اُس کا کہ چھاگل سرور کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 199
اُٹھتا شباب اور فضا لُطفِ نُورکی
ماجد بدن تھا اُس کا کہ چھاگل سرور کی
جس کی چھنک دھنک ہمیں مدہوش کر گئی
اور صبر یہ کہ ہم نے وہ چُوڑی نہ چُور کی
شہکار اِک خدا کا تھا، مل کر جسے لگا
جیسے وہ کیفیت تھی کسی اَوجِ طُور کی
فتنہ زمیں پہ ہے کہ خرابی فلک پہ ہے
بدلی لگیں ادائیں سحر سے طیور کی
کچھ اور ہم سے ہو نہ سکا یا بھلے ہُوا
دعویٰ ہے یہ کہ ہم نے محّبت ضرور کی
تب سے رہا میں اگلے سَموں ہی کا منتظر
دیکھی ہے شکل جب سے درختوں کے بُور کی
خود رَو ہے جس کو دیکھیے، درس اُس سے کون لے
ابلیس کو سزا جو ملی تھی غرور کی
اِک اِک ادا ہے آپ کی ماجد! پسندِ دہر
پر شاعری پسند نہیں ہے حضور کی
ماجد صدیقی

کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
خوشبو میں غوطہ زن تھے نہائے تھے نور میں
کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں
روشن پسِ زباں ہے الاؤ کوئی ضرور
حدت سی آ گئی ہے جو آنکھوں کے نُور میں
دونوں جہاں تھے جیسے اُسی کے تہِ قدم
اُس نے تو ہاتھ تک نہ ملایا غرُور میں
پوچھا ہے کس نے حال مری بُود و باش کا
چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنُور میں
اے پیڑ تیری خیر کہ ہیں بادِ زرد کی
پیوست انگلیاں تری شاخوں کے بُور میں
ماجدؔ چمن میں صُورتِ حالات ہے کچھ اور
پھیلی ہے سنسنی سی جو اُڑتے طیُور میں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑