تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

طور

ماجد بدن تھا اُس کا کہ چھاگل سرور کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 199
اُٹھتا شباب اور فضا لُطفِ نُورکی
ماجد بدن تھا اُس کا کہ چھاگل سرور کی
جس کی چھنک دھنک ہمیں مدہوش کر گئی
اور صبر یہ کہ ہم نے وہ چُوڑی نہ چُور کی
شہکار اِک خدا کا تھا، مل کر جسے لگا
جیسے وہ کیفیت تھی کسی اَوجِ طُور کی
فتنہ زمیں پہ ہے کہ خرابی فلک پہ ہے
بدلی لگیں ادائیں سحر سے طیور کی
کچھ اور ہم سے ہو نہ سکا یا بھلے ہُوا
دعویٰ ہے یہ کہ ہم نے محّبت ضرور کی
تب سے رہا میں اگلے سَموں ہی کا منتظر
دیکھی ہے شکل جب سے درختوں کے بُور کی
خود رَو ہے جس کو دیکھیے، درس اُس سے کون لے
ابلیس کو سزا جو ملی تھی غرور کی
اِک اِک ادا ہے آپ کی ماجد! پسندِ دہر
پر شاعری پسند نہیں ہے حضور کی
ماجد صدیقی

وہ جو چشم و دل کا سرور تھا، کوئی لے گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 183
جو نظر کی شاخ کا بُور تھا، کوئی لے گیا
وہ جو چشم و دل کا سرور تھا، کوئی لے گیا
وہ کہ دید جس کی نشہ شہی سا لگا کیا
وہ کہ وجہِ ناز و غرور تھا، کوئی لے گیا
وہ کہ دل میں جس کا قیام، دل کاوقار تھا
وہ کہ چیت رُت کا ظہور تھا، کوئی لے گیا
وہ جو مستیاں تھیں فضاؤں میں وہ ہوا ہوئیں
وہ کہ شاخچوں پہ انگور تھا، کوئی لے گیا
وہ کہ جس کے لفظ تھے ضو فشاں شب تار میں
وہ کہ میرے عشق کا طور تھا، کوئی لے گیا
ماجد صدیقی

نظر میں جو بھی ہو منظر نشے میں چُور ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 99
ہر ایک لمحۂ بے کیف کو سُرور ملے
نظر میں جو بھی ہو منظر نشے میں چُور ملے
کہیں تو کس سے کہ تھوتھا چنا گھنا باجے
ہمیں تو اپنے بھی دل میں یہی فُتور ملے
طلب کو چاہئے آخر فراخئِ دل بھی
یہ منہ رہا تو نہ کھانے کو پھر مسُور ملے
شعُور ہو تو پسِ شاخ، برگ و گُل ہیں بہت
ہر ایک سنگ میں دیکھو تو عکسِ طور ملے
ماجد صدیقی

بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
زمیں پہ جب بھی کبھی اُس کا نور اُترا ہے
بڑا ہی دور سِر اَوج طور اُترا ہے
جو پھوٹتا ہے کبھی تلخیوں کی شدّت سے
لہو کی تہ میں کچھ ایسا سرور اُترا ہے
مرے سکوں کا پیمبر اسی میں ہو شاید
ابھی ابھی لبِ دریا جو پُور اُترا ہے
رہا ہے ایک سا موسم نہ بادوباراں کا
چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اُترا ہے
نگاہِ حرص لگی ہے اُسی پرندے پر
تلاشِ رزق میں ہو کر جو چُور اُترا ہے
سنی نہ ہم نے کبھی ایسی شاعری واعظ
سخن میں آپ کے کیا عکسِ حور اُترا ہے
تجھے بھی اہلِ ہوس پر کچھ اعتماد سا ہے
ترے بھی ذہن میں ماجدؔ فتور اُترا ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑