تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

شرمائے

کوئی ہوا کا جھونکا؟ جو جیون کی آس بندھائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 132
موسم کی جانب سے کیوں الٹا پیغام ہی آئے
کوئی ہوا کا جھونکا؟ جو جیون کی آس بندھائے
گھر گھر بھی اک آمر خود کو اتّم ہی کہلائے
اپنے کہے پر اوّل و آخر کبھی نہ جو شرمائے
آتے جاتے موسموں سے میں کیوں یہ بات نہ پوچھوں
انسانی چہرے کا چاند ہی نت نت کیوں گہنائے
کہتے ہیں پیڑوں کے پھل پیڑوں سے اچّھے لاگیں
بچّوں بچّیوں کی اولاد بھی یونہی من کو بھائے
بیٹا بیٹا ماں کے جوتے تک بھی سر پر رکھے
پر اپنے بچّوں کی ماں کجو نت نیچا دکھلائے
دھرمی دھرمی چرچا اپنے دھرم کا کبھی نہ بھولے
دوسرے دھرم کے لوگوں کو لیکن جھوٹا ٹھہرائے
ماجد بات کو گنجلک صورت بھی تو کبھی دیا کر
حالی سی کیا سادہ نثری غزلیں سامنے لائے
ماجد صدیقی

خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور
جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ
پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور
صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا
یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور
کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں
کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور
وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی
موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور
نکلی ہی نہیں گرد کے پہلو سے جو ماجدؔ
پیاسوں کو وہ بدلی ابھی ترسائے گی کچھ اور
ماجد صدیقی

کب یہ اُمید بھی بر آئے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
کب صبا تیرا پتہ لائے گی
کب یہ اُمید بھی بر آئے گی
صبح کی خیر مناؤ لوگو
شب کوئی دم ہے گزر جائے گی
ایسے منظر ہیں پسِ پردۂ حُسن
آنکھ دیکھے گی تو شرمائے گی
دل کو پت جھڑ کی حکایت نہ سناؤ
یہ کلی تاب نہیں لائے گی
مَیں بھی ہوں منزلِ شب کا راہی
رات بھی سُوئے سحر جائے گی
پیار خوشبُو ہے چھُپائے نہ بنے
بات نکلی تو بکھر جائے گی
دل سے باغی ہے تمّنا ماجدؔ
ہو کے اب شہر بدر جائے گی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑