تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

شتاب

خواب مرے اور خواب اور خواب، تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
آب مری اور مرے سُراب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
خواب مرے اور خواب اور خواب، تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
سروِ کِنارِ جُو کا اسیر، میں چشمِ آہو کا اسیر
میرا نشہ اور مری شراب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
میرے گمان اِنہی جیسے میرے یقین اِنہی جیسے
مجھ پر اُتری نئی کتاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
میرے پروں کو دلائیں جِلا دیں یہ مجھے رفتارِ صبا
طُولِ سفر میں یہ مری رکاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
اِن میں سحر کا عکس ملے رگ رگ تھر تھر رقص ملے
ہائے ملیں کب کب یہ شتاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
یاد دلائیں نئے پن کی سوندھی مہک مٹی جیسی
گِھر گِھرکے آتے یہ سحاب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
طُرّۂ فن ہیں یہ ماجد کا متنَ سخن ہیں یہ ماجد کا
جنسِ معانی کے ہیں یہ باب تتلیاں، بچّے، کِھلتے پھول
ماجد صدیقی

منعکس ذہن میں ہے ہائے یہ کس دَور کا خواب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
رحلِ دل پر اتر آئی ترے چہرے کی کتاب
منعکس ذہن میں ہے ہائے یہ کس دَور کا خواب
ہم سے مانگے ہے وہ خیرات بھی صرفِ جاں کی
اور پاسخ بھی وہ مکتوب کا مانگے ہے شتاب
بام پر تیرے کبوتر کی غٹر غُوں اُتری
دل کہے یہ ترے سندیس کی ہے موجِ شراب
مستقل جان نہ کوئی بھی سہولت وقتی
دیکھنا ٹوٹ نہ جائے کہیں خیمے کی طناب
برق بھی ساتھ ہی ژالوں کے لپکتی لاگے
ایک کم تھا؟ کہ اُتر آیا ہے اک اور عذاب
کیا خبر رحمتِ وافر کی خبر لایا ہو
تیرتاآئے ہے وہ دُور سے اک سُرخ سحاب
ہو بھلے آنکھ مٹّکا وہ کوئی بھی ماجد!
جو بھی ہوتا ہے وہ ہوتا ہے سدا زیرِ نقاب
ماجد صدیقی

ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 83
وُہ رُوئے روشن، وُہ حسن کا انتخاب آئے
ہوئی ہے مدّت ہی ہاتھ میں وہ کتاب آئے
سوال جو بھی کرو گے اس گنبدِ فلک میں
تمہارا اپنا کہا ہی بن کر جواب آئے
وُہ گل بہ شاخِ نظر ہو یا آس کا ثمر ہو
جِسے بھی آنا ہے پاس اپنے شتاب آئے
کھِنچا کھنچا سا لگے وُہ سانسوں میں بسنے والا
برس ہوئے ہیں ہمِیں پہ اِک یہ عتاب آئے
جھُلانے آئیں نہ رات کی رانیوں سی نیندیں
نہ لوریوں کو کہیں کوئی ماہتاب آئے
فلک سے اُتری ہے برق کب بُوند بُوند ماجدؔ
زدستِ انساں ہی خاک پر ہر عذاب آئے
ماجد صدیقی

کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
سرِ سپیدۂ مُو، پردۂ خضاب آیا
کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا
گماں یہ ہے کہ ستارے زمیں پہ اُتریں گے
سرِ ورق جو کبھی دل کا اضطراب آیا
قدم اُکھڑنے تلک تھیں صلابتیں ساری
پھر اُس کے بعد تو ہر حادثہ شتاب آیا
کبھی اُٹھا کے نہ دیکھا خود آئنہ جس نے
وہ شخص پاس مرے بہرِ احتساب آیا
ملائے آنکھ نہ مجھ دشت سے جبھی ماجدؔ
برس کے پھر کسی دریا یہ ہے سحاب آیا
ماجد صدیقی

جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے
پھر اِذن دیا اُس نے، اظہارِ غم دل کا
پھر شاخِ لب و جاں پر، کھِلنے کو گلاب آئے
مائل ہوں جو شفقت پر اور جانیں، برسنا بھی
کھیتوں پہ لئے بوندیں ایسی، نہ سحاب آئے
ایوان نشینوں سے کیا آس، مُرادوں کی
کٹیاؤں کو پہلے بھی کب ایسے جواب آئے
جب بادِ صبا تک نے، لی ذات بدل اپنی
پودوں کے قد و رُخ پر، کیا رنگِ شباب آئے
جس طور لپکتی ہیں لینے کو، ہمیں موجیں
اُس پار کا ساحل بھی، اے کاش! شتاب آئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑