تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

شباب

چَودھواں مُکھ مہتاب کا، جاناں! تیرا سامنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
کھلتا پھول گلاب کا، جاناں! تیرا سامنا
چَودھواں مُکھ مہتاب کا، جاناں! تیرا سامنا
جذبوں کو لرزائے ہے، ہوش، حواس بھلائے ہے
پھیلا نشہ شراب کا، جاناں! تیرا سامنا
آنکھوں کو سہلائے ہے، جذبوں کو گرمائے ہے
یک جا رنگ شباب کا، جاناں! تیرا سامنا
کوڑی دُور کی لائے ہے، ساتھ ہی ساتھ جگائے ہے
کھٹکا ترے حجاب کا، جاناں! تیرا سامنا
دُور کرے بیزاریاں، دکھلائے گُلکاریاں
موسم جُھکے سحاب کا، جاناں! تیرا سامنا
کھولے ہے اسرار جو، لائے نئے نکھار جو
نقشہ نئی کتاب کا، جاناں! تیرا سامنا
اندیشہ سا گھیر لے، کب تُو آنکھیں پھیر لے
منظر ہے اِک خواب کا، جاناں! تیرا سامنا
ماجد صدیقی

دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دیکھیں تو دِل میں ٹہنی تمّنا کی داب کے
دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے
کل جسکے چہچہے تھے منڈیروں پہ جا بہ جا
پنجے میں آج تھی وہی چڑیا عقاب کے
رہتا ہمیں ہے جن پہ گماں کائنات کا
منظر ہیں کچھ درونِ فضائے حباب کے
محوِ رقم قلم تھا مؤرخ کا جن پہ کل
اوراق تھے وہ میری ہزیمت کے باب کے
اُچھلے تھے ساحلوں سے کبھی ہم بھی موج موج
آئے تھے ہم پہ بھی کبھی کچھ دن شباب کے
ماجدؔ اُدھر تھا قوم کا نیلام اور اِدھر
اُڑتے بہ قصرِ خاص تھے ساغر شراب کے
ماجد صدیقی

جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے
پھر اِذن دیا اُس نے، اظہارِ غم دل کا
پھر شاخِ لب و جاں پر، کھِلنے کو گلاب آئے
مائل ہوں جو شفقت پر اور جانیں، برسنا بھی
کھیتوں پہ لئے بوندیں ایسی، نہ سحاب آئے
ایوان نشینوں سے کیا آس، مُرادوں کی
کٹیاؤں کو پہلے بھی کب ایسے جواب آئے
جب بادِ صبا تک نے، لی ذات بدل اپنی
پودوں کے قد و رُخ پر، کیا رنگِ شباب آئے
جس طور لپکتی ہیں لینے کو، ہمیں موجیں
اُس پار کا ساحل بھی، اے کاش! شتاب آئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑