تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

شان

کیوں کنڈ وِ کھاندائیں جیوندیاں، توں ہوکے مرزا خان وے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 75
کس لیکھے پیار اساڈڑا، کی سانوں تیرا مان وے
کیوں کنڈ وِ کھاندائیں جیوندیاں، توں ہوکے مرزا خان وے
اکھاں وچ رُتاں رَڑکیاں، میں دِلڑی بن بن دھڑکی آں
اگاں کجھ ہور وی بھڑکیاں نت دل دا لہو کھولان وے
توں پنی اکو چُپ وے، تے باہر ہنیرا گھپ وے
میں مکھ تیرے دی دُھپ وے، کیوں نھیرے مینوں تان وے
تک چڑھیا سورج مہکدا، تک جیوڑا میرا سہکدا
جوبن سی تیرا لہکدا، تے کی سی میری شان وے
مُڑ پِچھاں سونہہ ائی رب دی، نئیں تینوں ایہہ گل پھبدی
اِک دنیا تین پئی لبھدی، تُوں اپنا آپ پچھان وے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 18
بندیا بندہ بن کے رہئو، تے نہ کر ایڈے مان
اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان
ہنجواں راہیں میں تے اُترن، کیہ کیہ نِگھے بھیت
جگ توں وکھرا ہوندا جاوے، میرا دِین ایمان
میں اُتّے تے اوہدیاں نظراں، ساول بن بن لہن
تریل پوے تے پتھراں نوں وی، ہو جاندا عرفان
ویتنام، کمبوڈیا، سِینا، کوریا تے کشمیر
بندیاں ہتھ بندے دا لہو، جِنج لوہا چڑھیا سان
لفظاں تھانویں پتھر کاہنوں ماجدُ، رولے اج
ریشم تے پٹ اُندی ہوئی، ایہہ تیری نرم زبان
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
جتنے رستے ہیں آسان اُسی کے ہیں
زور آور ہے وہ فرمان اُسی کے ہیں
اِک اِک سانس بندھا ہے اُس کی ڈوری میں
یہ پیکر یہ دل اور جان اُسی کے ہیں
وہ چاہے جو صورت اِن کو دے ڈالے
دل میں ہیں جتنے ارمان اُسی کے ہیں
پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھُولوں تک
راحت کے سارے سامان اُسی کے ہیں
چھاپ ہے اُس کی ہر اُمید کے خوشے پر
ہر موسم کے دسترخوان اُسی کے ہیں
ہم جیسوں سے آنکھ ملائیں کب ماجدؔ
شہر میں ہیں جو جو ذی شان اُسی کے ہیں
ماجد صدیقی

جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 149
ہار کھانا مری پہچان کہاں
جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں
زیست مرہونِ نتائج ہے فقط
اِس کا اپنا کوئی عنوان کہاں
پہرہ دارانِ الم کے ہوتے
دل سے نکِلے کوئی ارمان کہاں
ہے معنون جو نہتّوں سے یہاں
ختم ہوتا ہے وُہ تاوان کہاں
چاند جوہڑ میں اُترتا کب ہے
ہم کہاں اور وہ ذی شان کہاں
ہے جو محبوس بدن میں ماجدؔ
چین پاتی ہے بھلا جان کہاں
ماجد صدیقی

کب زمیں سے ہے آسمان ملا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 109
کیا ہے گر تُو نہ ہم سے آن ملا
کب زمیں سے ہے آسمان ملا
کھنچ کے اس سے گلا نہ گھونٹ اپنا
وقت سے تُو بھی اپنی تان ملا
ظلم سے حق طلب ہوا جو بھی
پھر نہ اُس شخص کا نشان ملا
ابنِ آدم سمجھ کے شیطاں بھی
جب ملا ہم سے بدگمان ملا
کچھ فلک مرتبت ہیں وہ بھی جنہیں
جو ملا وجۂ کسرِ شان ملا
دیر تھی منہ بھنور کا کھلنے کی
پھر نہ کشتی نہ بادبان ملا
جس پہ جھک کر ملا تھا اوج ہمیں
پھر نہ ماجدؔ وہ آستان ملا
ماجد صدیقی

پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی
بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو
تھپکی دینے آ پہنچے ذی شان کئی
شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی
راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی
طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے
مرنے والوں پر آئے بہتان کئی
دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے
گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی
ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زورآور کے
قبرستان بنے ماجد دالان کئی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑