تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سہلانے

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی
Advertisements

مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ڈھنگ جِسے آئے سب کو بہلانے کا
مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا
ویسا ہی، کنکر ہو جیسے کھانے میں
بزم میں تھا احساس کسی بیگانے کا
کام نہ کیونکر ہم بھی یہی اَب اپنا لیں
ساری اچّھی قدریں بیچ کے کھانے کا
وُہ چنچل جب بات کرے تو، گُر سیکھے
بادِصبا بھی اُس سے پھُول کھِلانے کا
پُوچھتے کیا ہو پیڑ تلک جب ٹُوٹ گرے
حال کہیں کیا ہم اپنے کاشانے کا
آیا ہے وُہ دَور کہ باغ میں پھُولوں کو
گرد بھی کرتب دِکھلائے سہلانے کا
جوڑتے ہو کیوں سُوکھے پتّے شاخوں سے
حاصل کیا؟ پچھلی باتیں دہرانے کا
ماجدؔ ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اُس افسانے کا
ماجد صدیقی

پتا پتا موسمِگل بھی بکھر جانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
اے صنم اب اور کس رُت میں ہے تُو آنے لگا
پتا پتا موسمِگل بھی بکھر جانے لگا
تُوبھی ایسی کوئی فرمائش کبھی ہونٹوں پہ لا
دیکھ بھنورا کس طرح پھولوں کو سہلانے لگا
تُوبھی ایسے میں مرے آئینۂ دل میں اتر
چند رماں بھی دیکھ پھر جھیلوں میں لہرانے لگا
میں بھلاکب اہل، تجھ سے یہ شرف پانے کا ہوں
تُو بھلا کیوں حسن کاہُن ،مجھ پہ برسانے لگا
عندلیبوں کو گلاب اور تُومجھے مل جائے گا
موسم گل، دیکھ! کیا افواہ پھیلانے لگا
ماجد صدیقی

پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 113
کم نہ تھا وہ بھی جو ارضِ جاں کے ہتھیانے میں تھا
پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا
سر نہ خم کر کے سرِ دربار ہم پر یہ کُھلا
لطف بعد انکار کے کیا، گال سہلانے میں تھا
حق طلب ہونا بھی جرم ایسا تھا کچھ اپنے لیے
جاں کا اندیشہ زباں پر حرف تک لانے میں تھا
سر بہ سجدہ پیڑ تھے طوفانِ ابروباد میں
اور دریا محو اپنا زور دکھلانے میں تھا
سانحے کی تازگی جاں پر گزر جانے لگی
کرب کچھ ایسا ستم کی بات دہرانے میں تھا
جاں نہ تھی صےّاد کو مطلوب اتنی جس قدر
اشتیاق اُس کا ہمارے پَر کتروانے میں تھا
پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں
خوف سب گرداب کے ہم تک چلے آنے میں تھا
ماجد صدیقی

بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
جب بھی مجھ سے دُور وہ جانے لگتا ہے
بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے
ابر کے اَوج سے جب بھی خاک پہ اترے تو
پانی کیا کیا زور دکھانے لگتا ہے
وقت فرعون بنائے کسی کو کتنا ہی
ایک نہ اک دن وہ بھی ٹھکانے لگتا ہے
دشت میں بھی یہ معجزہ ہم نے دیکھا ہے
جھونکا سا اک پیاس بجھانے لگتا ہے
دکھلائی دے چھاؤں جہاں بھی پرندے کو
چونچ سے اپنے پَر سہلانے لگتا ہے
مارا ہے کیا تیر سخن میں ماجدؔ نے
ہر ہر بات پہ کیوں اترانے لگتا ہے
ماجد صدیقی

عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے
بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر
اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے
مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے
گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے
تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو
برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے
وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی
لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے
چھُو کے وسطِ عمر کو ہم بھی شروع عمر کے
ابّ و جدّ جیسے عجب قصّے ہیں دہرانے لگے
اینٹ سے ماجدؔ نیا ایکا دکھا کر اینٹ کا
جتنے بَونے تھے ہمیں نیچا وہ دکھلانے لگے
ماجد صدیقی

آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا
کھیت جلنے پر بڑھا کر عمر، اپنے سود کی
کس طرح بنیا، کسانوں کو ہے بہلانے لگا
جانے کیا طغیانیاں کرنے لگیں گھیرے درست
گھونسلوں تک میں بھی جن کا خوف دہلانے لگا
خون کس نے خاک پر چھڑکا تھا جس کی یاد میں
اِک پھریرا سا فضاؤں میں ہے لہرانے لگا
مہد میں مٹی کے جھونکا برگِ گل کو ڈال کر
کس صفائی سے اُسے رہ رہ کے سہلانے لگا
ماجد صدیقی

لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
حق طلبی سے اب کے دھیان ہٹانے لگے ہیں
لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں
نرم ہوا کانٹوں سے الجھنا سیکھ رہی ہے
اور بگولے پھولوں کو سہلانے لگے ہیں
مہلتِ شر کو دیکھ کے جو ابلیس نے پائی
خیر کے جتنے قصّے ہیں افسانے لگے ہیں
صاحبِ قامت، اور بلندیِ فرق کی خاطر
سب کوتاہ قدوں کو پاس بلانے لگے ہیں
زردیِ رنگ پہ شور مچانے والے پتّے
ابر کے ہاتھوں ماجد خوب ٹھکانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑