تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سو

باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
دریا دریا جُو جُو، پت جھڑ رقص کرے
باغِ حیات میں ہر سُو، پت جھڑ رقص کرے
پتّی پتّی پھونک کے کومل پھولوں کی
اور ہتھیا کر خوشبو، پت جھڑ رقص کرے
سبزہ زرد پڑے تو دُھنک کر رہ جائے
ششدر ہوں سب آہو، پت جھڑ رقص کرے
ماند ہوئے ہیں، جتنے بھی رنگ شبابی تھے
سہم چلے ہیں گُلرو، پت جھڑ رقص کرے
روش روش لہراکر تُند بگولوں سی
اور پھیلا کر بازو، پت جھڑ رقص کرے
باغوں اور مکانوں اور ایوانوں تک
روزِ ازل سے بدخُو، پت جھڑ رقص کرے
عین عروج پہ کھیتوں اور کھلیانوں میں
ماجِد کب مانے تُو، پت جھڑ رقص کرے
ماجد صدیقی

ساتھ بیگانگی کی خو جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 121
تو کہ زر ہے جدھر بھی تو جائے
ساتھ بیگانگی کی خو جائے
دل کے پہلو سے یوں شباب گیا
دھن لٹے جیسے آبرو جائے
ایسی پھیلے خبر قرابت کی
گل رخوں سے، کہ چار سُو جائے
دل میں بچوں کی خیر کا سندیس
باغ میں جیسے آبجو جائے
سو بہ سو ساتھ اپنی خوشبو کے
پھول مہکے تو کو بہ کو جائے
ایسے لاگی ہمیں خطا اپنی
آگ جیسے بدن کو چھو جائے
یار ماجد تیاگ نفرت کو
برق کیونکر یہ مو بہ مو جائے
ماجد صدیقی

جاگتے دم ہی سجنوا تیرا درشن ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پھول کالر پر سجایا اور منوا کھو گیا
جاگتے دم ہی سجنوا تیرا درشن ہو گیا
تخت پر سوئے ملے ہیں بعد کے سب حکمراں
جب سے اِک ہمدردِ خلقت، دار پر ہے سو گیا
فصل بھی شاداب اُس کی اور مرادیں بھی سپھل
کھیتیوں میں بِیج، اپنے وقت پر جو بو گیا
اب کسی کونے میں خِفّت کا کوئی سایہ نہیں
گھر میں ہُن برسا تو جتنے داغ تھے سب دھو گیا
جب پہنچ میںآ چکا اُس کی غرض کا سومنات
اور جب مقصد کی مایہ پا چکا وہ، تو گیا
سادہ دل لوگوں نے بھگتا ہے اُسے برسوں تلک
حق میں آمر کے سبھی نے کیوں کہا یہ، لو گیا
اپنے ہاتھوں کھو دیا جس نے بھی اپنا اعتماد
لوٹ کر آیا نہ پھر وہ، شہرِ دل سے جو گیا
بعدِ مدّت جب کبھی گاؤں سے ہے پلٹا کیا
کتنی قبروں پر نجانے اور ماجد رو گیا
ماجد صدیقی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

غیر کے روبرو مجھ سے رُوٹھا نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
چاہتا ہوں کہ تو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
غیر کے روبرو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
جان لے ،تیرے دم سے بقا ہے مری
عشق کی آبرو! مجھ سے رُوٹھا نہ کر
میں کہ ہوں دیپ، تو ہے شعائیں مری
پھیل کر چار سو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
تو کہ چندا ہے چندا سے سُورج نہ بن
ہو نہ یوں تُندخو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
میں کہ سبزہ ہوں ،نورس ہوں دم سے ترے
اے مری آبُجو! مجھ سے رُوٹھا نہ کر
ماجد صدیقی

جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 102
عزت وہ دیں مجُھے کہ مرا دل لہو کریں
جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں
پل میں نظر سے جو مہِ نخشب سا کھو گیا
کس آس میں ہم اُس کی بھلا جستجو کریں
سُوجھے نہ راہِ ترکِ محبت ہی اک اُنہیں
کچھ اور بھی علاج مرے چارہ جُو کریں
پہنچیں نہ ایڑیاں بھی اُٹھا کر جو مجھ تلک
رُسوا وہ لوگ کیوں نہ مجھے کُو بہ کُو کریں
پیروں تلے ہیں اُس کے سبھی کے سروں کے بال
اب منصفی کو کس کے اُسے رُوبروکریں
اُس کے ستم کا خوف ہی اُس کا ہے احترام
چرچا جبھی تو اُس کا سبھی چار سُو کریں
وہ عجز کیا کہ جس پہ گماں ہو غرور کا
ماجدؔ ہم اختیار نہ ایسی بھی خُو کریں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑