تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سنگسار

کشیدہ رُو ہے ہمِیں سے بہار کیا کہئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
چمن چمن ہے یہاں زر نگار کیا کہئے
کشیدہ رُو ہے ہمِیں سے بہار کیا کہئے
لگی ہے ضربِ عدو تو پسِ نگاہ مگر
ہیں چشم و گوش و زباں سب فگار کیا کہئے
وہ جن کے عیش کو مرہون ہو گئے ہم تُم
کہاں گئے ہیں وہ سب تاجدار کیا کہئے
شجر درونِ چمن باور ہوا جو بھی
کیا گیا ہے وہی سنگسار کیا کہئے
ہوا کا تخت ملا عاق ہو کے شاخوں سے
یہ جبر کس نے کیا اختیار کیا کہئے
لبوں کے بیچ نئی کونپلیں ہیں نت ماجدؔ
سخن کہیں کہ اِسے شاخسار، کیا کہئے
ماجد صدیقی

دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
تیر جب اُس کا جاں کے پار نہ تھا
دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا
ہے منانا اُسی خدا کو ہمیں
جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا
آئنے سج رہے تھے پلکوں پر
حالِ دل پھر بھی آشکار نہ تھا
وسعتیں جب تلک طلب میں نہ تھیں
حرف یوں وقفِ اختصار نہ تھا
تھے زمیں پر قدم ہمارے بھی
بدگماں ہم سے جب وہ یار نہ تھا
شدّتِ اشتہا سے جسم اپنا
کب سزاوارِ سنگسار نہ تھا
مہرباں وہ بھی تھا مگر ماجدؔ
کوئی ہم سا بھی جاں سپار نہ تھا
ماجد صدیقی

مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے
مُنہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے
وحشت ملے نہ اُس کی کبھی دیکھنے کو بھی
آنکھیں بھی اُس سے چار کوئی دوسرا کرے
ہر شخص چاہتا ہے اُسے ہو سزائے جرم
پر اُس کو سنگسار کوئی دوسرا کرے
ہاتھوں میں ہو کمان مگر تیر انتقام
اُس کے جِگر کے پار کوئی دوسرا کرے
ہو اُس کا جور ختم، سبھی چاہتے ہیں پر
یہ راہ اختیار کوئی دوسرا کرے
اعداد سب کے پاس ہیں لیکن مُصر ہیں سب
اُس کے ستم شمار کوئی دوسرا کرے
موزوں نہیں ہیں مدحِ ستم کو کچھ ایسے ہم
ماجدؔ یہ کاروبار کوئی دوسرا کرے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑