تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سنا

ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 126
رُت کو نیا جامہ پہنا دے
ہونٹ ہلا اور پھول کھلا دے
مَے اک اور ملا دے مَے میں
مستیٔ قرب کا جام چڑھا دے
صبر نہ جس میں ہو تیس دنوں کا
مُژدۂ عید ابھی وہ سنا دے
جس کے بعد جِناں ملتی ہو
حشر مری جاں میں وہ اٹھا دے
نام ترے یہ جو دل نے سجائی
آ اِس بزم کے بھاگ جگا دے
قرب ترا گر معجزہ ہے تو
آ اور اجڑے بدن کو جِلا دے
جس نے ترا قد کاٹھ بڑھایا
ماجد کے لکھے کو دعا دے
ماجد صدیقی

سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
قضیّہ تنگ نظری کا چُکا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں بھی موٹروے بنا دیتے تو اچّھا تھا
جلا وطنی بھلے خودساختہ ہو، ہے جلا وطنی
سبق خودسوں کو اِتنا بھی سِکھا دیتے تو اچّھا تھا
روش جو رہبری کی ہے تحمّل اُس میں اپنا کر
بہت سوں کو جہانِ نَوسُجھا دیتے تو اچّھا تھا
سیاست میں ہمیشہ، مسٹری ہے جن کا آ جانا
کرشمہ گر کوئی وہ بھی دکھا دیتے تو اچّھا تھا
عمارت جس پہ پہلے سے کہیں ہٹ کر بنی ہوتی
کوئی بنیاد ایسی بھی اُٹھا دیتے تو اچّھا تھا
وہی جو قوم کو بانٹے ہے جانے کتنے ٹکڑوں میں
وہ کربِ نفرتِ باہم مٹا دیتے تو اچّھا تھا
ترستا ہے جو ماجد عمر بھر سے موسمِ نَو کو
اُسے ہی کچھ خبراچّھی سُنا دیتے تو اچّھا تھا
ماجد صدیقی

فتنہ ہمسری و نا ہمسری کا او یار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اپنے یہاں یہ حشر ہے کب کا بپا !او یار
فتنہ ہمسری و نا ہمسری کا او یار
دیکھ ذرا بارش کے بعد کی قوسِ قزح
در اُس شوخ کا دیکھ فلک پہ کھلا او یار
وہ کہ گلاب و سمن ہے جس کا بدن اُس سے
مانگنے آئے مہک نت بادِ صبا او یار
میں کہ کہے کے نیاپے پر مچلوں وہ سب
لگے ہے مجھ سے پہلے کہا گیا او یار
حاکمِ وقت سے عدل کی بھیک کی خواہاں ہے
تخت پہ ٹنگی ہوئی اک نُچی قبا او یار
چڑیوں پر ژالوں سے گزرتے کیا گزری
خیر کی کوئی خبر ایسی بھی سنا او یار
پڑھ پڑھ کے اُس کو تُو اپنی تاب بڑھا
تازہ سخن ہے جو ماجد پر اُترا او یار
ماجد صدیقی

پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
گئی جو چھوڑ کبھی شاخ پر سجا کے مجھے
پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے
ہُوا ہے جو بھی خلافِ گماں ہُوا اُن کے
بہت خفیف ہوئے ہیں وہ آزما کے مجھے
ہے میرے ظرف سے منصف مرا مگر خائف
مزاج پوچھ رہا ہے سزا سُنا کے مجھے
ابھی ہیں باعثِ ردِّ تپّش یہی بادل
بہم جو سائے بزرگوں کی ہیں دُعا کے مجھے
سُنا یہ ہے رہِ اظہارِ حق میں دار بھی ہے
چلے ہیں آپ یہ کس راہ پر لگا کے مجھے
زمیں کے وار تو اک ایک سہہ لئے میں نے
فلک سے ہی کہیں اب پھینکئے اُٹھا کے مجھے
سرِ جہاں ہوں وہ بیگانۂ سکوں ماجدؔ
پڑے ہیں جھانکنے گوشے سبھی خلا کے مجھے
ماجد صدیقی

صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
ہونٹوں پہ جو بول پیار کا ہے
صحرا میں یہ موجۂ صبا ہے
پُونجی کسی بُلبُلے کی جیسے
اِس زیست میں اور کیا دھرا ہے
باز آئے نہ لوٹنے سے سورج
دیکھاہے یہی، یہی سُنا ہے
بندھنی ہے جو آتے موسموں میں
اپنے ہی سخن کی وُہ ہوا ہے
ہر میمنہ گُرگ سے کہے یہ
جو آپ کہیں وُہی بجا ہے
سہہ جائے تُو تُند و تُرش کیا کیا
ماجِد ترا حوصلہ بڑا ہے
ماجد صدیقی

کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ثبوتِ جرم کی صورت کوئی بنا دیجے
کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے
اُٹھے جو حرفِ حمایت کوئی مرے حق میں
دمِ نمود سے پہلے اُسے دبا دیجے
دراز قد ہوں تو پھر گاڑئیے زمیں میں مجھے
جو فرق اعلیٰ و ادنیٰ میں ہے مٹا دیجے
گرفت گر مری پرواز پر نہیں ہے تو کیا
نظر کی آگ سے ہی پر مرے جلا دیجے
کتابِ عدل میں کیا؟ جو تہہِ خیال میں ہے
وُہ حکمِ خاص بھی اَب خیر سے سُنا دیجے
کھنچو نہ میرے نشیمن کے ہم نشیں پتّو!
یہ جل اٹُھا ہے تو تُم بھی اِسے ہوا دیجے
میانِ دیدہ و لب، شعلۂ بیاں ماجدؔ!
کہو اُنہیں کہ جہاں بھی اُٹھے،بُجھا دیجے
ماجد صدیقی

یوں بھی ہم تُم کبھی مِلا کرتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
کُھل کے اظہارِ مدّعا کرتے
یوں بھی ہم تُم کبھی مِلا کرتے
مانگتے گر کبھی خُدا سے تمہیں
لُطف آتا ہمیں دُعا کرتے
سج کے اک دُوسرے کے ہونٹوں پر
ہم بھی غنچہ صفت کھِلا کرتے
ہم پئے لُطف چھیڑ کر تُجھ کو
جو نہ سُننا تھا وُہ سُنا کرتے
جگنوؤں سا بہ سطحِ یاد کبھی
ٹمٹماتے، جلا بُجھا کرتے
بہر تسکینِ دیدہ و دل و جاں
رسمِ ناگفتنی ادا کرتے
پُھول کھِلتے سرِ فضا ماجدؔ
ہونٹ بہرِ سخن جو وار کرتے
ماجد صدیقی

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا
ہُوا یہ سایۂ ابلق بھی اَب جو نذرِ خزاں
تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا
سموم عام کروں گا اِسی کے ذرّوں سے
فضائے دہر کو اَب پیرہن نیا دوں گا
وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے
یہ فیصلہ بھی کسی روز اَب سُنا دوں گا
سزا سُناؤ تو اِس جُرم زیست کی مُجھ کو
صلیبِ درد کی بُنیاد تک ہلا دوں گا
ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور
میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا
جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجدؔ
شبِ سیاہ کو بھی رُوپ چاند سا دوں گا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑