تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سم

سرِدشت آہو کا رم دیکھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 195
نشیلا، ترا ہر قدم دیکھتے ہیں
سرِدشت آہو کا رم دیکھتے ہیں
سرِ سرو بھی تیری قامت کے آگے
لگے جیسے اندر سے خم دیکھتے ہیں
مناظر جہاں ہوں دل آزاریوں کے
شہِ وقت اُس سمت کم دیکھتے ہیں
ہماری کسی بات سے تو نہیں ہے؟
یہ کیوں؟تیرے پلّو کونم دیکھتے ہیں
دُھواں دُھول اور شور ہیں عام اِتنے
کہ سانسوں تلک میں بھی سم دیکھتے ہیں
تری آنکھ پر راز افشانیاں ہیں
ترے پاس بھی جامِ جم دیکھتے ہیں
مسلسل ہے ماجد یہ کیوں ژالہ باری
کہ ہر سو ستم پر ستم دیکھتے ہیں
ماجد صدیقی

اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
مُڑنے والی تھی وُہ ساحل کی طرف یم کی طرح
اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح
اُس کی انگڑائی میں دعوت تھی بہ اندازِ دگر
ابروؤں میں آنے والے دلنشیں خم کی طرح
پیش قدمی میں عجب امرت تھا پھیلا چار سُو
اُس کا ہر ہٹتا قدم لگنے لگا سم کی طرح
کہہ رہا تھا مجھ سے جیسے اُس کا فردوسِ بدن
دیکھنا رہ سے بھٹک جانا نہ آدم کی طرح
نشّۂ دیدار اُس کا اب کے تھا کُچھ اور ہی
آنکھ میں اُتری لگی وُہ کیفِ پیہم کی طرح
یہ بدن ماجِد سحرآثار ہو جانے لگا
اس سے ملنے کا اثر تھا گل پہ شبنم کی طرح
ماجد صدیقی

کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
جب تک گرد گُلوں پر ہے اِن آنکھوں کو نم ہونا ہے
کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے
رفتہ رفتہ اندر سے دیمک سا اُنہیں جو چاٹ سکے
ایمانوں میں زہر ریا کا اور ابھی ضم ہونا ہے
جانے کب تک ٹوہ لگانے اِک اِک جابر موسم کی
دل کو ساغر میں ڈھلنا ہے اور ہمیں جم ہونا ہے
ایک خُدا سے ہٹ کر بھی کچھ قادر راہ میں پڑتے ہیں
جن کی اُونچی دہلیزوں پر اِس سر کو خم ہونا ہے
آگے کی یہ بات کہاں بتلائے لُغت اُمیدوں کی
کان میں پڑنے والے کن کن لفظوں کو سم ہونا ہے
اور طرح سے بدلے دیکھے اَبکے گھاٹ مچانوں میں
تیروں پر تحریر جہاں ہر آہو کا رَم ہونا ہے
دل کو جو بھی آس لگی وُہ خوابِ جِناں بن جائے گی
دریاؤں کو جیسے ماجدؔ بحر میں مدغم ہونا ہے
ماجد صدیقی

کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
جیون رُت کی سختی بے موسم لگتی ہے
کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے
صبحِ سفر یادوں میں اُترتی ہے یوں جیسے
رفتہ رفتہ رات کی چادر نم لگتی ہے
سوچیں خلق کے حق میں اچّھا سوچنے والے
خلق اُنہی سے آخر کیوں برہم لگتی ہے
ان سے توقّع داد کی ہم کیا رکھیں جن کے
بات لبوں کے بیچ سے پھوٹی سم لگتی ہے
بات فقط اک لمبی دیر گزرنے کی ہے
جگہ جگہ پر کیا کیا کھوپڑی، خم لگتی ہے
بَیری رات کے آخر میں جو جا کے بہم ہو
آنکھ کنارے اٹکی وہ شبنم لگتی ہے
کچھ تو اندھیرا بھی خاصا گمبھیر ہوا ہے
کچھ ماجدؔ لَو دیپ کی بھی مدّھم لگتی ہے
ماجد صدیقی

زیست کا اِک اور دن کم ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 130
مہرِ رخشاں رات میں ضم ہو گیا
زیست کا اِک اور دن کم ہو گیا
لکھ رہا تھا جانے کیا کاغذ پہ میں
آنکھ بھر آنے سے جو نم ہو گیا
دل نجانے ہم سخن کس سے ہوا
حرف کا امرت بھی ہے سم ہو گیا
ڈوبتے ہی اِک ذرا اُس ماہ کے
دیکھیے کیا دل کا عالم ہو گیا
کم نہیں یہ مُعجزہ اِس دَور کا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ جم ہو گیا
بچ کے ماجدؔ جس سے نکلے تھے کبھی
سر اُسی دہلیز پر خم ہو گیا
ماجد صدیقی

پوچھئے گا نہ بات یہ ہم سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 116
کیوں خفا ہیں ہم ابنِ آدم سے
پوچھئے گا نہ بات یہ ہم سے
ہم اور اُس سے صفائیاں مانگیں
باز آئے ہم ایسے اودھم سے
اب تو ہے جاں کا بھی زیاں اِس میں
نشّہِ درد کم نہیں سم سے
جب سے اُبھرے نشیب سے ہم بھی
لوگ رہتے ہیں ہم سے برہم سے
کوئی خواہش بھی لَو نہ دے ماجدؔ
ہو گئے سب چراغ مدّھم سے
ماجد صدیقی

خُشکیاں اپنے یہاں کی اور ہیں، نم اور ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
بانجھ ہے برکھا پون،آنکھوں کا موسم اور ہے
خُشکیاں اپنے یہاں کی اور ہیں، نم اور ہے
خون میں اُترے فقط، گمراہی افکار سے
دی نہ جائے اور جاں لیوا ہو جو، سَم اور ہے
ناتوانوں کے کوائف، جام میں کر لے کشید
ہم ہوئے جس عہد میں، اِس عہد کا جم اور ہے
چیت کی رُت میں، غزالوں کے بدن کی شاعری
اور ہے، اور خوف میں اُلجھا ہوا رم، اور ہے
میں بھی دے بیٹھا ہوں دل ماجدؔ، مگر یہ جان کر
ابروؤں کا اور ہے، دیوار کا خم اور ہے
ماجد صدیقی

شہد میں گھول کے سم دیتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
دل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیں
شہد میں گھول کے سم دیتے ہیں
دل کو پتھّر نہ سمجھنا مری جاں
لے تجھے ساغرِ جم دیتے ہیں
ظرف کی داد یہی ہو جیسے
دینے والے ہمیں غم دیتے ہیں
دست کش ہو کے بھی دیکھیں تو سہی
یوں بھی کیا اہلِ کرم دیتے ہیں
چھینتے ہیں وہ نوالے ہم سے
اور بقا کو ہمیں بم دیتے ہیں
خود خزاں رنگ ہیں لیکن ماجدؔ
ہم بہاروں کو جنم دیتے ہیں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑