تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سمجھانے

شاید تختۂ عجز و نیاز ٹھکانے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 212
بوریا بستر باندھنے کاوقت آنے لگا ہے
شاید تختۂ عجز و نیاز ٹھکانے لگا ہے
چرخِ سخن سے کونسا تارا جھڑنے کو ہے
کس بد خبری کا جھونکالرزانے لگا ہے
کم تولیں اور نرخ زیادہ لکھ کے تھمائیں
اہلِ غرض کا سِفلہ پن دہلانے لگا ہے
ملزم نے اِتنی رشوت ٹھونسی ہے اُس کو
تھانیدار اب ملزم سے کترانے لگا ہے
مجھ کو بِل میں گُھسنے سے پہلے ہی اُچک لے
چُوہا بِلّی جی کو یہ سمجھانے لگا ہے
نیولا داؤ دکھاکے، سانپ نوالہ کرکے
زیرِ حلق اُتار کے کیا اِٹھلانے لگا ہے
ماجِد گروی رکھ کے ہمارے آتے دِنوں کو
ساہوکار ہمیں کیا کیا بہلانے لگا ہے
ماجد صدیقی

شاید تختۂ عجزونیاز ٹھکانے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 136
بوریا بستر باندھنے کا وقت آنے لگا ہے
شاید تختۂ عجزونیاز ٹھکانے لگا ہے
چرخِ سخن سے کونسا تارا جھڑنے کو ہے
کس بد خبری کا جھونکا لرزانے لگا ہے
کم تولیں اور نرخ زیادہ لکھ کے تھمائیں
اہلِ غرض کا سفلہ پن دہلانے لگا ہے
ملزم نے اتنی رشوت ٹھونسی ہے اس کو
تھانے دار اب ملزم سے کترانے لگا ہے
مجھ کو بِل میں گُھسنے سے پہلے ہی اُچَک لے
چوہا بلّی جی کو یہ سمجھانے لگا ہے
نیولا داؤ دکھا کے سانپ نوالہ کرکے
حلق سے آگے بھیج کے کیا اٹھلانے لگا ہے
ماجد گروی رکھ کے ہمارے آتے دنوں کو
ساہوکار ہمیں کیا کیا بہلانے لگا ہے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑