تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سدھائیں

اپنا اِک بھی طَور نہ بدلیں اور سِدھائیں اوروں کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
نفرت کرنے والے خود بھی جلیں، جلائیں اوروں کو
اپنا اِک بھی طَور نہ بدلیں اور سِدھائیں اوروں کو
جو بھی ٹیڑھی چال چلے گا کب منزل تک پہنچے گا
ایسے جو بھی خسارہ جُو ہیں کیا دے پائیں اوروں کو
تُند مزاج سبھی اندر کا خُبث سجا کر ماتھوں پر
اپنا سارا پس منظر کیا کیا نہ دکھائیں اوروں کو
وہ لگ لائی جن کی نکیلیں ہیں اوروں کے ہاتھوں میں
خود ناچیں اور جی میں یہی چاہیں کہ نچائیں اوروں کو
جو بھی ہیں کج فہم وہ چِپٹا چاہیں، گول میں ٹُھنک جائے
اپنی رضا و مرضی کے اسباق سکھائیں اوروں کو
کون بتائے وہ تو خود جلتے ہیں چِخا میں چِنتاکی
لاحق کرنے پر تُل جاتے ہیں جو چتائیں اوروں کو
چُوسنیاں نوچیں، بیساکھیاں معذوروں کی چھنوائیں
ماجد صاحب آپ بھی کیا کیا کچھ نہ سُجھائیں اوروں کو
ماجد صدیقی

بات دل کی نہ منہ پہ لائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 115
کلبلائیں کہ جاں سے جائیں ہم
بات دل کی نہ منہ پہ لائیں ہم
ہے بھنور بھی گریز پا ہم سے
کس کی آنکھوں میں اب سمائیں ہم
ہے تقاضا کہ بات کرنے کو
چھلنیاں حلق میں لگائیں ہم
مہر سے ضو طلب کرے ماجد!
دل ہے وحشی اِسے سدھائیں ہم
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑