تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سخنور

ہم رہ سکے نہ خَیر کو بھی شر کہے بغیر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 189
محسن کو اہل مسلکِ دیگرکہے بغیر
ہم رہ سکے نہ خَیر کو بھی شر کہے بغیر
ہوتے نہ جن کے، جاگنے پائے ہمارے بھاگ
اُن کھیتیوں کو کیا کہیں بنجر کہے بغیر
تا غیر کہہ کے مجھ کو غبی خوش رہا کرے
’سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر،
ہاں جس کا قُربِ خاص ہے سونے سا قیمتی
اُس شوخ کو کہیں بھی تو کیا؟ زرکہے بغیر
جس نے خدا سے ہٹ کے کیا، جی کو جو لگا
آدم کو ہم بھی کیا کہیں خودسرکہے بغیر
اپنے یہاں یہی تو خرابی ہے جا بہ جا
کمتر بھی خوش نہ ہو کبھی برتر کہے بغیر
شاعر بھی ہے وہ صرف معلّم نہیں حضور!
ماجد کو کیا کہو گے سخنور کہے بغیر
ماجد صدیقی

یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
رب نزدیک ہے یا گھونسا زورآور کا
یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
اُس کے بعد تناؤ ہے جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رب نزدیک ہے یا مُکّا زورآور کا
یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
دیکھنا پڑے بکھیڑا پھر جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
کانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیا
لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا
تھے جس قدر شہاب، گرائے نشیب میں
ذرّوں کو وقت نے، مہ و اختر بنا دیا
جیسے، کنارِ آب کا پودا ہو سخت جاں
صدمات نے، ہمیں بھی ہے پتّھر بنا دیا
تاحشر نفرتوں کا نشانہ رہے، جہاں
ایسی جگہ، مزارِ ستم گر بنا دیا
اِک بات بھی پتے کی، نہ تم نے کہی کبھی
ماجدؔ تمہیں، یہ کس نے سخنور بنا دیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑