تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سایہ

یار بٹھایا آنگن میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
پھول کھلایا آنگن میں
یار بٹھایا آنگن میں
دھوپ میں کیا نم لائیگا
بیل کا سایہ آنگن میں
ہاں بے خوف بٹھا لیجے
یار پرایا آنگن میں
ہاں بعضوں کو دفن ملی
غیبی مایہ آنگن میں
ہاں ہاں چڑیا نے کیا کیا
شور اٹھایا آنگن میں
زہر پڑوس جلاپے کا
آن سمایا آنگن میں
عزمِ مکیناں نے ماجد
ہُن برسایا آنگن میں
ماجد صدیقی
Advertisements

وسعتِ فکر کچھ ایسی ہے کہ تنہا ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 100
یوں تو ہم اِس کے سبب دُنیا میں یکتا ٹھہرے
وسعتِ فکر کچھ ایسی ہے کہ تنہا ٹھہرے
تو کہ تھا موسمِ گُل ہم سے کھنچا ہے کب کا
شاخ اُمید پہ اب کیا کوئی پتّا ٹھہرے
سایۂ ابر تھے یا موجِ ہوا تھے، کیا تھے
ہائے وہ لوگ کہ تھے ہم سے شناسا ٹھہرے
کچھ تو ہو گرد ہی بر دوشِ ہوا ہو چاہے
سر پہ مجھ دشت کے راہی کے بھی سایہ ٹھہرے
پھُول باوصفِ زباں حال نہ پوچھیں میرا
خامشی اِن کی بھی تیرا نہ اشارہ ٹھہرے
نہ ہر اک سمت بڑھا دستِ تمنا ماجدؔ
یہ بھی آخر کو گدائی کا نہ کاسا ٹھہرے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑