تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ساگر

دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
جس کا اندر جنّت کے اندر سا ہو
دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو
بیشک دِل اُس میں اُلجھے پر فتنہ وُہ
زن سا اور زمیں اور نہ زر سا ہو
رحمتِ یزداں تک سے بھی وہ ڈر جائے
جس کھیتی پر بادل ٹوٹ کے برسا ہو
اُس خطّے میں اچّھے دن کم کم آئیں
تخت جہاں کا بھی حقدار کو ترسا ہو
گُنی بہت اور اپنی آن کا رکھوالا
جس کا بیٹا ہو میرے یاور سا ہو
اپنے یہاں گھر بار کے سب دکھ سہنے کو
حوصلہ ہو تو ماجِد وُہ ساگر سا ہو
ماجد صدیقی

درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 151
ہونٹ پھولوں کے لبوں پر رکھنا
درس ہے یہ ہمیں ازبر رکھنا
کوئی احساں ہو گراں بار ہے وُہ
سر پہ اپنے نہ یہ پتّھر رکھنا
عفو پرواز دلاتا ہے نئی
ہے بڑی بات یہ شہپر رکھنا
جگ میں رہنا ہے تو پھر سینے میں
دل نہ رکھنا کوئی ساگر رکھنا
عدل ہی کرنے پہ آئے ہو تو پھر
دونوں پلڑوں کو برابر رکھنا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑