تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سات

نئے نئے صدمات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
دے ہر دن ہر رات
نئے نئے صدمات
پیڑ کی ہیں اوقات
جھڑ جھڑ جاتے پات
تن تن نقش ملیں
لَو دیتی ضربات
کرب سے انساں کا
ہے جنموں کا سات
استقبال کریں
قدم قدم آفات
ایک ہنسی ہے جو دے
نِت رونے کو مات
ملنے ہوئے کٹھن
ماجِد اَن اور بھات
ماجد صدیقی

اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
پل پل بُجھتی جس میں اپنی ذات دکھائی دیتی ہے
اَب تو چاروں اور ہمیں وہ رات دکھائی دیتی ہے
صحن چمن میں پہلا ہی سا رقص و سرُود ہوا کا ہے
ہر سُو گرتے پتّوں کی برسات دکھائی دیتی ہے
جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں
ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے
شاخِ طرب سے جھڑنے والی، گردِ الم میں لپٹی سی
صُورت صُورت پیڑ سے بچھڑا پات دکھائی دیتی ہے
سودا ہے درپیش ہمیں جو آن کا ہے یا جان کا ہے
صُورت جینے مرنے کی اک سات دکھائی دیتی ہے
موسمِ دشت میں نم ہو ماجدؔ کب تک آبلہ پائی سے
اَب تو ہمیں اِس رن میں بھی کُچھ مات دکھائی دیتی ہے
ماجد صدیقی

رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
تا عمر اقتدار کو دیتے ہوئے ثبات
رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات
پیڑوں پہ پنچھیوں میں عجب سنسنی سی ہے
گیدڑ ہرن کی جب سے لگائے ہوئے ہیں گھات
مخلوق ہو کوئی بھی مگر دیکھنا یہ ہے
کرتا ہے کیا سلوک، یہاں کون، کس کے سات
اشکوں سے کب دُھلی ہے سیاہی نصیب کی
تسخیر جگنوؤں سے ہوئی کب سیاہ رات
ہم نے یہ بات کرمکِ شب تاب سے سنی
ظلمت نہ دے سکی کسی اِک بھی کرن کو مات
ماجدؔ کسی کے ہاتھ نہ آئے نہ آ سکے
کٹ کر پتنگ ڈور سے، منہ سے نکل کے بات
ماجد صدیقی

بڑا دشوار ہے حق بات کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
چمن کی تیرگی کو رات کہنا
بڑا دشوار ہے حق بات کہنا
جو دھبے گرد کے اشجار پر ہیں
انہیں دھبے نہ کہنا پات کہنا
جو انساں کل فرشتہ تھا نظر میں
اُسے بھی پڑ گیا بد ذات کہنا
شریکِ راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
زباں پر حرفِ حق آئے اگر تو
اُسے تم تنُدیٔ جذبات کہنا
نہ خفت ماننا کوئی تم اپنی
ہماری جیت ہی کو مات کہنا
یہ دنیا ہے یہاں رہنے کو ماجدؔ
پڑے سچ جھوٹ سب اِک سات کہنا
ماجد صدیقی

لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
بازار سے ہر عید سے پہلے کی رات ہم
لاتے ہیں ایک قبر کی چادر بھی سات ہم
تاریخ نے دئیے ہیں ہمیں نام کیا سے کیا
کرنے گئے جو زیرِ نگیں سومنات ہم
تیور ہی اہلِعدل کے کچھ اس طرح کے تھے
پلٹے ہیں حلق ہی میں لیے اپنی بات ہم
لینے دیا جو تنُدیٔ موسم نے دم کبھی
نکلیں گے ڈھونڈنے کو کہیں پھول پات ہم
اپنے سفر کی سمت ہی الٹی ہے جب توکیوں
کرتے پھریں تلاش نہ راہِ نجات ہم
دربار میں نزاکت احساس کب روا
ماجدؔ کسے سُجھائیں نظر کے نکات ہم
ماجد صدیقی

فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کیا کر لے گی اِن اشکوں، اِن تاروں کی بارات
فوّاروں سی پھُوٹ رہی ہے، آنگن آنگن رات
اپنی خشک تنی کے نوحے، کر کے لبوں سے محو
پانی ہی کے گُن گاتے ہیں، پیڑ سے جھڑتے پات
ہم ایسے پچھڑے لوگوں کے، دل کا حال نہ پوچھ
جنگلی گھاس کی صورت چمٹیں، قدم قدم صدمات
جیون ہے سائے کی مسافت، پل میں اور سے اور
شکلیں بدلے اور تیاگے اپنوں تک کا سات
کس نے چُلوّ پانی سے مُجھ پیڑ کی چاہی خیر
کس نے قبر پہ حاتم کی ماری ہے، ماجدؔ لات
ماجد صدیقی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑