تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

زیاں

ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 197
امدادِ غیب کا ہمیں کوئی گماں نہیں
ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں
اِتنا تو اُس کے سامنے مشکل نہ تھا کلام
چھالا ہے اب تو جیسے دہن میں زباں نہیں
تیرِ نظر کی چاہ نے ایسا سُجھا دیا
ابرو ہے تیرا سامنے، کوئی کماں نہیں
کم نرخ کر لیے ہیں شہِ شہر نے تو کیا
کم کر لیے ہیں باٹ ہمیں کچھ زیاں نہیں
بولوں میں کھوٹ ہو تو ملیں رازداں بہت
بولیں کھرا کھرا تو کوئی ہمزباں نہیں
جب سے ہوس ہوئی اُسے ملبوس شاہ کی
اُس روز سے ہمارا کوئی پاسباں نہیں
ضو بھی ہے اِس میں اور تحّرک بھی ہے عجب
ماجد کا ہے کلام یہ ماہِ رواں نہیں
ماجد صدیقی
Advertisements

آنکھوں میں بندھا لاگے ہے ماجد کی سماں اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 188
دن خوب بھی آنے کو ہیں گویا کہ یہاں اور
آنکھوں میں بندھا لاگے ہے ماجد کی سماں اور
پلّو کسی بیوہ کا، بکھرتی کوئی دھجّی
ہاتھوں میں غریبوں کے لہکتے ہیں نشاں اور
لیتے ہوئے لگتی ہے نشانہ مرے دل کا
چہرے پہ مری قوسِ قزح کے ہے کماں اور
راتوں میں جھلکتے ہیں جو دُولہوں دُلہنوں کے
کچھ روز سے ہیں ذہن میں اپنے بھی گماں اور
یہ حزبِ مخالف ہے کہ انبوہِ حریصاں
گویائی سے اپنی جو کرے اپنا زیاں اور
بجلی جو گئی ہے تو غزل ہونے لگی ہے
’رُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور،
یاور ہی سے ممکن ہے جو ہو پائے کبھی تو
ماجد تری غزلوں سی غزل کوئی کہاں اور
ماجد صدیقی

وہ کہ ہے جو خاکِ پا وہ آسماں ہو جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 163
پینچیاں بانٹے ہے جو گر مہرباں ہو جائے گا
وہ کہ ہے جو خاکِ پا وہ آسماں ہو جائے گا
پر نکالے گا سیاست کی فضا میں گر کوئی
اُس کو ازبر نُسخۂ پٹواریاں ہو جائے گا
کل کمائی گھر کے چوگے پر ہی گر لگتی رہی
جو بھی گھر ہے چیل ہی کا آشیاں ہو جائے گا
دور میں نااہل مختاروں کے تھا کس کو پتہ
سیب جیسا ہی ٹماٹر بھی گراں ہو جائے گا
نازِ قامت جس کو ہوخود وقت اُس سے یہ کہے
دیکھ تیرا سروِ قامت بھی کماں ہو جائے گا
دہشتیں خانہ بہ خانہ یہ خبر پھیلا چکیں
امن کا اک اک پنگھوڑا بے اماں ہو جائے گا
عشق کی رُت جا چکی پھر بھی یہ ماجد دیکھ لے
’دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا،
ماجد صدیقی

جانِ جہاں ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 100
لطف رساں ہو
جانِ جہاں ہو
ہم سمجھیں تم
لمسِ شہاں ہو
لفظ انوکھا
زیبِ زباں ہو
دل نگری کی
روحِ رواں ہو
ہم پہ جو صید ہیں
تنی کماں ہو
یاری میں کیوں
سود و زیاں ہو
تم ماجد کا
نطق و بیاں ہو
ماجد صدیقی

گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
چھن گیا کیوں قلم سے حرفِ رواں
گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں
کس خدا کی پناہ میں ہوں کہ میں
بُھولتا جا رہا ہوں جورِ بتاں
کوئی جنبش تو سطح پر بھی ہو
کس طرح کا ہوں میں بھی آبِ رواں
پیلے پتّوں کو سبز کون کرے
کس سے رُک پائے گا یہ سیلِ خزاں
اب یہی روگ لے کے بیٹھے ہیں
ہم کہ تھا شغل جن کا جی کا زیاں
ہم کہ سیماب وار جیتے تھے
اب ہمیں پر ہے پتّھروں کا گماں
اب وہ چبھنا بھی اپنا خاک ہوا
ہم کہ تھے ہر نظر میں نوکِ سناں
ہے تکلم مرے پہ خندہ بہ لب
گونجتی خامشی کراں بہ کراں
یہ تو خدشہ ہمیں نہ تھا ماجدؔ
نرغۂ غم میں گھر گئے ہو کہاں
ماجد صدیقی

موجۂ آبِ رواں یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
جب ترا لطفِ نہاں یاد آئے
موجۂ آبِ رواں یاد آئے
تجھ سے خسارہ پیار میں پا کے
سُود نہ کوئی زیاں یاد آئے
تیور جب بھی فلک کے دیکھوں
تجھ ابرو کی کماں یاد آئے
راج پاٹ جب دل کا جانچوں
تجھ سا رشکِ شہاں یاد آئے
ہاں ہاں ہر دو بچھڑے مجھ سے
بزم تری کہ جناں یاد آئے
چاند اور لہر کے ربط سے ماجِد
کس کا زورِ بیاں یاد آئے
ماجد صدیقی

درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
رکھتا ہے کرم پر بھی گماں اور طرح کے
درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے
اس دشتِ طلب میں کہ بگولے ہی جہاں ہیں
آتے ہیں نظر سروِ رواں اور طرح کے
تھا پیڑ جہاں قبر سی کھائی ہے وہاں اَب
سیلاب نے چھوڑے ہیں نشاں اور طرح کے
دل کا بھی کہا، خوف سے کٹنے کے نہ مانے
کرتی ہے ادا لفظ، زباں اور طرح کے
لگتا ہے کہ جس ہاتھ میں اَب کے یہ تنی ہے
دکھلائے کمالات کماں اور طرح کے
ہم لوگ فقط آہ بہ لب اور ہیں ماجدؔ
دربار میں آدابِ شہاں اور طرح کے
ماجد صدیقی

چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
دیکھتے گر ذرا ہنس کے اے مہرباں کچھ بگڑنا نہ تھا
چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا
دو قدم ہم چلے تھے اگر دو قدم تم بھی چلتے ادھر
اس سے ہونا نہیں تھا کسی کا زیاں،کچھ بگڑنا نہ تھا
حسن کی کھنکھناتی ندی جانے کیوں ہم سے کھنچتی رہی
گھونٹ دو گھونٹ پینا تھا آبِ رواں، کچھ بگڑنا نہ تھا
بندھنوں سے بغاوت، قیامت کا باعث نہ ٹھہری کبھی
جس طرح کا ہے، رہتا وہی آسماں کچھ بگڑنا نہ تھا
تھوکنے سے بھلا رُوئے مہتاب پر فرق پڑنا تھا کیا
کُھل گئی اِس طرح نیّتِ حاسداں کچھ بگڑنا نہ تھا
ماجد صدیقی

پیڑ اُکھڑے تو آشیاں کیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
بعدِ طوفاں کوئی نشاں کیسا
پیڑ اُکھڑے تو آشیاں کیسا
اُن پہ گزرا ہے جو گراں اِتنا
لفظ اُترا سرِ زباں کیسا
پا بہ زنجیر کر دیا جس نے
سُست رَو ہے یہ کارواں کیسا
ہے پرندوں سی بُود و باش اپنی
فائدہ کیا ہے اور زیاں کیسا
بچھنے والی نظر کے ایواں میں
ہاتھ دِکھلا گئی کماں کیسا
چاند پھر بادلوں میں اُترا ہے
دیکھ ماجدؔ وہ ہے سماں کیسا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑