تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

زباں

ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 197
امدادِ غیب کا ہمیں کوئی گماں نہیں
ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں
اِتنا تو اُس کے سامنے مشکل نہ تھا کلام
چھالا ہے اب تو جیسے دہن میں زباں نہیں
تیرِ نظر کی چاہ نے ایسا سُجھا دیا
ابرو ہے تیرا سامنے، کوئی کماں نہیں
کم نرخ کر لیے ہیں شہِ شہر نے تو کیا
کم کر لیے ہیں باٹ ہمیں کچھ زیاں نہیں
بولوں میں کھوٹ ہو تو ملیں رازداں بہت
بولیں کھرا کھرا تو کوئی ہمزباں نہیں
جب سے ہوس ہوئی اُسے ملبوس شاہ کی
اُس روز سے ہمارا کوئی پاسباں نہیں
ضو بھی ہے اِس میں اور تحّرک بھی ہے عجب
ماجد کا ہے کلام یہ ماہِ رواں نہیں
ماجد صدیقی
Advertisements

ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 140
چرخ سے بوندیں گریں یا بجلیاں جینا تو ہے
ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے
سندھ اور پنجاب کا چاہے عذابِ سَیل ہو
کربلا سا دشت ہو چاہے زباں جینا تو ہے
ہم پہ واجب آمروں کے حکم کی تعمیل بھی
ہوں بھلے جمہوریت کی تلخیاں جینا تو ہے
ہو بھلے نازک بدن پر مہرباں راتوں کی اوس
ہوں بھلے پیروں تلے چنگاریاں جینا تو ہے
چہرہ چہرہ منعکس چاہے ہلالِ عید ہو
رُو بہ رُو شکنوں کی ہوں گلکاریاں جینا تو ہے
چُھٹ کے غیروں سے گرفتِ خویشگاں میں ہوں اسیر
ہوں غلامی کی گلے میں دھاریاں جینا تو ہے
آپ اُنہیں ماجد قفس کی تیلیاں کہہ لیں بھلے
سو بہ سو چاہے ہوں ذمّے داریاں جینا تو ہے
ماجد صدیقی

اور دہشت کا ہے نشاں جس کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 111
تیر اس کا ہے، ہے کماں جس کی
اور دہشت کا ہے نشاں جس کی
اُس سے ڈریئے کہ باؤلا ہے وہ
بدزبانی ہوئی زباں جس کی
وہ بھی انسان ہے ہمیں جیسا
ہے پہنچ تا بہ آسماں جس کی
جانے کس دن نہ مُڑ کے وہ آئے
راہ دیکھے ہے آشیاں جس کی
خوب در خوب نت جُوا کھیلے
بیٹیاں ہو چلیں جواں جس کی
خود کو ٹھہرائے شاہِ کرب و بلا
نہر ہے دشت میں رواں جس کی
ہاں وہ ماجدہے اہلِ دنیا سے
خُوبیاں ہیں ابھی نہاں جس کی
ماجد صدیقی

جانِ جہاں ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 100
لطف رساں ہو
جانِ جہاں ہو
ہم سمجھیں تم
لمسِ شہاں ہو
لفظ انوکھا
زیبِ زباں ہو
دل نگری کی
روحِ رواں ہو
ہم پہ جو صید ہیں
تنی کماں ہو
یاری میں کیوں
سود و زیاں ہو
تم ماجد کا
نطق و بیاں ہو
ماجد صدیقی

بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
نہ باز آئے یہ لُو اور نہ تن سے جاں نکلے
بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے
ہمیں بہار کے ہونٹوں کی نرمیوں کے امیں
ہمیں وہ برگ کہ پیغمبرِ خزاں نکلے
جہاں گلاب سخن کے سجائے تھے ہم نے
شرر بھی کچھ اُنہی حرفوں کے درمیان نکلے
زخستگی لبِ اظہار کا تو ذکر ہی کیا
کشش سے جیسے قلم کی بھی اب دھواں نکلے
ہمارا حال جبیں سے ہی جاننا اچھا
زباں سے کیا کوئی اب کلمۂ گراں نکلے
حضورِ یار ہیں وہ جاں سپار ہم ماجدؔ
ہو حکمِ قتل بھی اپنا تو منہ سے ہاں نکلے
ماجد صدیقی

کچھ کہہ نہ سکے جو بھی میں اُس کی زباں ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
نسبت وہ سخن سے ہو اِک نطق رواں ٹھہروں
کچھ کہہ نہ سکے جو بھی میں اُس کی زباں ٹھہروں
ایسا بھی کوئی منظر دکھلائیں تو دُنیا کو
تو گل بکنارِ جو، میں آبِ رواں ٹھہروں
اتنی تو مجھے آخر، اظہار کی فرصت دے
تو راز ہو سربستہ، میں تیرا بیاں ٹھہروں
ہر دم‘ دمِ عیسٰی ہے اپنا بھی، جو پہچانوں
ہوں عہد نئے پیدا، پل بھر کو جہاں ٹھہروں
یہ شہر تو اب جیسے اک شہرِ خموشاں ہے
کس در سے گزر جاؤں، ٹھہروں تو کہاں ٹھہروں
صورت مرے جینے کی ماجدؔ ہو صبا جیسی
نس نس میں گُلوں کی مَیں، اُتری ہوئی جاں ٹھہروں
ماجد صدیقی

پھر وُہی اندھا کُنواں ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
سر پہ لختِ آسماں ہے اور ہم
پھر وُہی اندھا کُنواں ہے اور ہم
ہَیں لبوں پر خامشی کی کائیاں
زنگ آلودہ زباں ہے اور ہم
دُھند میں لپٹی ہوئی بینائیاں
دَر بدَر اُٹھتا دُھواں ہے اور ہم
منہدم بُنیاد ہر ایقان کی
نرغۂ وہم و گماں ہے اور ہم
ہر سخن ماجدؔ یہاں بے آبُرو
بے اثر طرز فغاں ہے اور ہم
ماجد صدیقی

گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
چھن گیا کیوں قلم سے حرفِ رواں
گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں
کس خدا کی پناہ میں ہوں کہ میں
بُھولتا جا رہا ہوں جورِ بتاں
کوئی جنبش تو سطح پر بھی ہو
کس طرح کا ہوں میں بھی آبِ رواں
پیلے پتّوں کو سبز کون کرے
کس سے رُک پائے گا یہ سیلِ خزاں
اب یہی روگ لے کے بیٹھے ہیں
ہم کہ تھا شغل جن کا جی کا زیاں
ہم کہ سیماب وار جیتے تھے
اب ہمیں پر ہے پتّھروں کا گماں
اب وہ چبھنا بھی اپنا خاک ہوا
ہم کہ تھے ہر نظر میں نوکِ سناں
ہے تکلم مرے پہ خندہ بہ لب
گونجتی خامشی کراں بہ کراں
یہ تو خدشہ ہمیں نہ تھا ماجدؔ
نرغۂ غم میں گھر گئے ہو کہاں
ماجد صدیقی

کرلی ہے مفاہمت خزاں سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
اُکتا کے زوالِ گلستاں سے
کرلی ہے مفاہمت خزاں سے
سنبھلے بھی تو کب سنبھل سکے ہم
جب تیر نکل چکا کماں سے
دیتے ہیں پتہ ہمارا اَب بھی
کُچھ پر، کہ گرے تھے آشیاں سے
اِک عمر رہا قیام جس پر
ٹوٹی ہے وہ شاخ درمیاں سے
شاخوں سے جھڑے ہیں پُھول کیونکر
شل ہوں اِسی رنجِ رفتگاں سے
دیوار اِک اور سامنے ہے
لے چاٹ اِسے بھی اب زباں سے
ماجدؔ ہے سفر جدا ہمارا
لینا ہمیں کیا ہے کارواں سے
ماجد صدیقی

درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
رکھتا ہے کرم پر بھی گماں اور طرح کے
درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے
اس دشتِ طلب میں کہ بگولے ہی جہاں ہیں
آتے ہیں نظر سروِ رواں اور طرح کے
تھا پیڑ جہاں قبر سی کھائی ہے وہاں اَب
سیلاب نے چھوڑے ہیں نشاں اور طرح کے
دل کا بھی کہا، خوف سے کٹنے کے نہ مانے
کرتی ہے ادا لفظ، زباں اور طرح کے
لگتا ہے کہ جس ہاتھ میں اَب کے یہ تنی ہے
دکھلائے کمالات کماں اور طرح کے
ہم لوگ فقط آہ بہ لب اور ہیں ماجدؔ
دربار میں آدابِ شہاں اور طرح کے
ماجد صدیقی

دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
تنے گی اُس کے ابرو کی کماں آہستہ آہستہ
دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ
جو کونپل سبز تھی دو چارہے اَب زردیوں سے بھی
مرتب ہو رہی ہے داستاں آہستہ آہستہ
لہو میں چھوڑنے پر آ گیا اَب تو شرارے سے
بدل کر خوف میں اک اک گماں آہستہ آہستہ
سجا رہتا تھا ہر دم آئنوں میں آنسوؤں کے جو
کنول وُہ بھی ہُوا اَب بے نشاں آہستہ آہستہ
اکھڑنا تھا زمیں سے اپنے قدموں کا کہ سر سے بھی
سرکنے لگ پڑا ہے آسماں آہستہ آہستہ
بکھر کر رہ گئیں بادِمخالفت کے تھپیڑوں سے
تمنّاؤں کی ساریاں تتلیاں آہستہ آہستہ
سخنور ہم بھی ماجدؔ رات بھر میں تو نہیں ٹھہرے
ملی ہے دل کے جذبوں کو زباں آہستہ آہستہ
ماجد صدیقی

ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
تھا جو بھی شجر عرش نشاں، فرش نشاں تھا
ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا
کانٹوں پہ لرزتی تھی تمنّاؤں کی شبنم
چھالا سا ہر اِک لفظ سرِ نوکِ زباں تھا
ہونٹوں نے بھی لو، زہرِ خموشی سے چٹخ کر
سیکھا وُہی انداز جو مرغوبِ شہاں تھا
باز آئے گھٹانے سے نہ جو رزقِ گدا کو
اَب کے بھی سرِ شہر وُہی شورِ سگاں تھا
توصیف کا ہر حرف مثالِ خس و خاشاک
دیکھا ہے جہاں بھی پسِ شہ زور رواں تھا
غافل نظر آیا نہ کبھی وار سے اپنے
وُہ خوف کا خنجر جو قریبِ رگ جاں تھا
مجروح پرندوں سی جو پیوندِ زمیں ہے
ماجدؔ نگہِ شوق پہ کب ایسا گماں تھا
ماجد صدیقی

اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کس کس کے لئے تھا وہ سبب راحتِ جاں کا
اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا
نخچیر کا خوں خاک میں کیوں جذب ہوا تھا
لاحق یہی احساس تھا چیتے کو زباں کا
کھو جانے لگے سُر جو لپکتے تھے فضا میں
پھر اب کے گلا سُوکھ چلا جُوئے رواں کا
دی دھاڑ سنائی ہمیں وحشت کی جدھر سے
رُخ موڑ دیا ہم نے اُسی سمت کماں کا
اوروں کو بھی دے کیوں نہ دکھائی وہ ہمِیں سا
جس خطۂ جاں پر ہے گماں باغِ جناں کا
سوچا ہے کبھی ہم سے چلن چاہے وہ کیسا
جس خاک کا برتاؤ ہے ہم آپ سے ماں کا
کیوں گھر کے تصّور سے اُبھرتا ہے نظر میں
نقشہ کسی آندھی میں گِھرے کچّے مکاں کا
بولے گا تو لرزائے گا ہر قلبِ تپاں کو
ماجدؔ نہ بدل پائے گا انداز فغاں کا
ماجد صدیقی

اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
شہ بہ شہ اِک کھیل برپا ہے جہاں ہم آپ ہیں
اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں
خم نہیں ہے ابروؤں میں چِیں جبینوں پر نہیں
جو نہیں تنتی کبھی ایسی کماں ہم آپ ہیں
مژدۂ کربِ لحد، ذکرِ خدائے محتسب
جانے کن کن دبدبوں کے درمیاں ہم آپ ہیں
حرف کی توقیر ہے، زور آوری پر منحصر
مقتدر ہی معتبر ہے بے زباں ہم آپ ہیں
زیر کرتی ہے ہمیں ہی دانشِ اہلِ ریا
جو بھی دَور آتا ہے صیدِ مُفسداں ہم آپ ہیں
اِک ذرا سی جس کو دانائی و عّیاری ملی
رہنما وہ اور جیشِ ابلہاں ہم آپ ہیں
دھند چھٹتی ہے تو پھر اِک دھند چھا جانے لگے
کُھل نہیں پاتا یہی ماجدؔ کہاں ہم آپ ہیں
ماجد صدیقی

کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی

میں کہکشاں ہوں، مجھے نور کی کماں دے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
جہاں کُھلیں مرے جَوہر وہ آسماں دے دے
میں کہکشاں ہوں، مجھے نور کی کماں دے دے
مرے سکوں کا جو، میری بقا کا ضامن ہو
جو مختلف ہو قفس سے، وہ آشیاں دے دے
کہوں جو بات وہ جھومر، جبینِ وقت کا ہو
جو حق سرا ہو، وہ منصور سی زباں دے دے
کٹی جو رات تو، نجمِ سحر سے میں نے کہا
میں جی اٹھاہوں مرے کان میں اذاں دے دے
جو بعدِ جنگ علامت ہو، سرفرازی کی
عَلم وہ دے مرے ہاتھوں میں، وہ نشاں دے دے
سو یُوں ہُوا کہ ہُوا اُس کا، اِک مکیں میں بھی
طلب یہ کی تھی ،مجھے وادیٔ سَواں دے دے
جب آئے جی میں تری بزم میں چلا آؤں
یہ اِذنِ خاص بھی،ماجد کو، جانِ جاں دے دے
ماجد صدیقی

حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
تو کہ گل ہے نہ بھنوروں سا ہو بدگماں دیکھ ایسا نہ کر
حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر
رکھ نہ ہم سے چھپا کر طراوت لب و چشم و رخسار کی
لے کے جائیں کہاں ہم یہ سُوکھی زباں دیکھ ایسا نہ کر
طوف سے سرو قامت کے کب تک ہمیں باز رکھے گا تو
دور رکھتا ہے پُھولوں سے کیوں تتلیاں دیکھ ایسا نہ کر
وہ ہمِیں ہیں جو اُتریں گے جاناں !ترے اوجِ معیار پر
کاوشِ شوق ہونے نہ دے رائیگاں دیکھ ایسا نہ کر
ماجد صدیقی

چہرہ ہے وہ کس کا جو سرِکاہکشاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 156
ہے کون جو آنکھوں میں مری عرش نشاں ہے
چہرہ ہے وہ کس کا جو سرِکاہکشاں ہے
مدّت سے جو صےّاد کے ہاتھوں میں ہے موزوں
فریاد سے کب ٹوٹنے والی وہ کماں ہے
صحرا سی مری پیاس پہ برسا نہ کسی پل
وہ ابر کہ ہر آن مرے سر پہ رواں ہے
ہم لوگ چلیں ساتھ کہاں اہلِ غرض کے
آتی ہی جنہیں ایک محبت کی زباں ہے
رنگین ہے صدیوں سے جو انساں کے لہو سے
ہر ہاتھ میں کیسا یہ تصادم کا نشاں ہے
ماجدؔ ہے تجھے ناز نکھر آنے پہ جس کے
تہذیب وہ اخبار کے صفحوں سے عیاں ہے
ماجد صدیقی

مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 125
معاملہ ہی رہائی کا اُس بیاں پر تھا
مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا
مثالِ ریگ ہوا نے اُسے بکھیرا ہے
جو لختِ ابر کبھی اپنے گلستاں پر تھا
یہ کربِ عجز تو ماتھا ہی جانتا ہے مرا
گُہر مراد کا کس کس کے آستاں پر تھا
ثمر تو تھے ہی مگر سنگ بھی تھے شاخوں پر
وُہ جن کا بوجھ مسلسل شجر کی جاں پر تھا
نشیبِ خاک سے کیا اُس کی پیروی کرتے
مقدّمہ ہی ہمارا جب آسماں پر تھا
لُٹے بھی گر تو زباں پر نہ ہم کبھی لائے
وہ اِتّہام کہ ہر دَور میں خزاں پر تھا
بھُلا سکے نہ وہ پل اُس کے قُرب کا ماجدؔ!
جب اپنا ہاتھ اندھیرے میں پرنیاں پر تھا
ماجد صدیقی

دل کو تسکین کہاں سے آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
روز اک آنچ سی جاں سے آئے
دل کو تسکین کہاں سے آئے
کس توقع پہ لیا نام ترا
ایک خوشبو سی دہاں سے آئے
ضبط سے جسم پگھلتے ہوں جہاں
ہو کے ہم لوگ وہاں سے آئے
جسم آیا ہے کھنڈر ہونے کو
کیا خبر اور خزاں سے آئے
اتنا روئے ہیں مسلسل کہ ہمیں
اب تو دہشت سی فغاں سے آئے
لُطفِ مضموں بھی جُدا ہے ماجدؔ
کیا مزہ تیری زباں سے آئے
ماجد صدیقی

پیڑ اُکھڑے تو آشیاں کیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
بعدِ طوفاں کوئی نشاں کیسا
پیڑ اُکھڑے تو آشیاں کیسا
اُن پہ گزرا ہے جو گراں اِتنا
لفظ اُترا سرِ زباں کیسا
پا بہ زنجیر کر دیا جس نے
سُست رَو ہے یہ کارواں کیسا
ہے پرندوں سی بُود و باش اپنی
فائدہ کیا ہے اور زیاں کیسا
بچھنے والی نظر کے ایواں میں
ہاتھ دِکھلا گئی کماں کیسا
چاند پھر بادلوں میں اُترا ہے
دیکھ ماجدؔ وہ ہے سماں کیسا
ماجد صدیقی

سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی
اُٹھی نہ تھی جو ابھی حلق سے پرندے کے
وہ چیخ ہم نے چمن میں تنی کماں سے سنی
ملا تھا نطق اُسے بھی پہ نذرِ عجز ہُوا
کتھا یہی تھی جو ہر فردِ بے زباں سے سنی
دراڑ دُور سے اَیوان کی نمایاں تھی
زوالِ شہ کی حکایت یہاں وہاں سے سنی
زباں سے خوف میں کٹ جائے جیسے لفظ کوئی
صدائے درد کچھ ایسی ہی آشیاں سے سنی
گماں قفس کا ہر اک گھونسلے پہ ہے ماجد
خبر یہ خَیر سے ہر کنجِ گلستا ں سے سنی
ماجد صدیقی

دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور
دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور
کہتی ہیں تجھے تشنہ شگوفوں کی زبانیں
اے ابر کرم ! کھینچ نہ تو اپنی کماں اور
ہر نقشِ قدم، رِستے لہو کا ہے مرّقع
اِس خاک پہ ہیں، اہلِ مسافت کے نشاں اور
نکلے ہیں لئے ہاتھ میں ہم، خَیر کا کاسہ
اُٹھنے کو ہے پھر شہر میں، غوغائے سگاں اور
صیّاد سے بچنے پہ بھی ، شب خون کا ڈر ہے
اب فاختہ رکھتی ہے یہاں ، خدشۂ جاں اور
دیکھیں گے، گرانی ہے زمانے کی یہی تو
سبزے کے کچلنے کو ابھی ، سنگِ گراں اور
ماجد وُہی کہتے ہیں، تقاضا ہو جو دل کا
ہم اہلِ سیاست نہیں، دیں گے جو بیاں اور
ماجد صدیقی

کسی پہلو تو ذکرِ گل رُخاں ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
مہک ہو یا میانِ لب فغاں ہو
کسی پہلو تو ذکرِ گل رُخاں ہو
زباں سے کُچھ سوا لطفِ بدن ہے
سراپا تم حریر و پرنیاں ہو
تمہارے حق میں کیا جانوں کہوں کیا
سُرورِ چشم ہو تم لطفِ جاں ہو
لپک کر لیں جسے پانی کی لہریں
کنارِ آب وہ سروِ رواں ہو
مرے افکار کی بنیادِ محکم
مرے جذبات کی ناطق زباں ہو
کبھی ماجدؔ کے حرفوں میں بھی اُترو
بڑی مُدّت سے تنہا ضوفشاں ہو
ماجد صدیقی

چاہتی ہے نظر ہر سماں دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
حُسن اُس کا بحّدِ نہاں دیکھنا
چاہتی ہے نظر ہر سماں دیکھنا
کیُوں نہ ہم اِس ادا پر ہی مرتے رہیں
چھیڑنا اور اُسے بدگماں دیکھنا
کنجِ لب جیسے کھڑکی کُھلے خُلد کی
قامت و قد کو طوبیٰ نشاں دیکھنا
ہائے وُہ ہاتھ جن کی ہے تحریر وُہ
حرف در حرف مخفی جہاں دیکھنا
اُس کے رُخ پرنظر کا نہ ٹِکنا تو پھر
دفعتاً جانبِ آسماں دیکھنا
اُس کے پیکر سے اپنی یہ وابستگی
گنگُ لمحوں کے منہ میں زباں دیکھنا
آنکھ سے تو شراروں کا جھڑنا بجا
لمس تک سے بھی اُٹھتے دُھواں دیکھنا
نازکی اُس کی اور تشنگی شوق کی
نوک پر خار کی پرنیاں دیکھنا
اس بیاں پر نہ معتوب ٹھہرو کہیں
دیکھنا ماجدِ خستہ جاں دیکھنا
ماجد صدیقی

لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
ہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیں
لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں
ناخلف لوگوں پہ جب سے، پھول برسائے گئے
شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اُگنے لگیں
ان گنت خدشوں میں کیا کیا کچھ، منافق بولیاں
دیکھا دیکھی ہی، سرِ نوکِ زباں اُگنے لگیں
آنکھ تو تر تھی مگرمچھ کی، مگر کیا جانیئے
درمیاں ہونٹوں کے تھیں، کیوں پپڑیاں اُگنے لگیں
یُوں ہُوا، پہلے جبنیوں سے پسینہ تھا رواں
فرطِ آبِ شور سے، پھر کائیاں اگنے لگیں
اک ذرا سا ہم سے ماجدؔ، بدگماں ٹھہرا وُہ اور
بستیوں میں جا بہ جا، رُسوائیاں اُگنے لگیں
ماجد صدیقی

اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیا
اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا
غلامانِ غرض سے، حال اِس پونجی کا، مت پُوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں، نجانے آستاں کیا کیا
صدی کے نصف تک پر تو، اُنہی کا راج دیکھا ہے
نجانے اِس سے آگے ہیں ابھی محرومیاں کیا کیا
کبھی اشکوں کبھی حرفوں میں، از خود ڈھلنے لگتے ہیں
لئے پھرتی ہے ماجدؔ آبلے، اپنی زباں کیا کیا
ماجد صدیقی

نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
کہا تو دل میں رہی ہیبتِ شہاں کیا کیا
نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا
یہ اُن حروف سے پوُچھو، ہوئے جو خاک بہ سر
اُڑی ہیں عہدِ مُروّت کی دھجّیاں کیا کیا
زمیں کی بات اُٹھائی تھی، اِک ذرا اس سے
نجانے ٹوٹ پڑا ہم پہ، آسماں کیا کیا
وُہ جس کے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لُٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گُماں کیا کیا
ہم ایسے اُڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
ہُنر دکھائے ابھی حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

میرے انگناں بھی آسماں اُترا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دل میں وُہ رشکِ گلستاں اُترا
میرے انگناں بھی آسماں اُترا
زعم ذہنوں سے، عدل خواہی کا
خاک اور خوں کے درمیاں اُترا
پستیوں نے جو، بعدِ اَوج دیا
تاپ خفت کا وہ، کہاں اُترا
رَن میں جیسے مجاہدِ اوّل
حرفِ حق، یُوں سرِ زباں اُترا
نُچ کے آندھی میں، پیڑ سے ماجدؔ
پھر ندی میں ہے، آشیاں اُترا
ماجد صدیقی

گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
بس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہے
گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے
غبارہ پھٹ کے رہ جانے کا قّصہ
ہماری داستاں ہونے لگا ہے
وُہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے
لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے
رُکا تھا لفظ جو ہونٹوں پہ آ کر
وُہ اَب زخمِ زباں ہونے لگا ہے
نظر میں جو بھی منظر ہے سکوں کا
بکھرتا آشیاں ہونے لگا ہے
جو تھا منسوب کل تک گیدڑوں سے
اَب اندازِ شہاں ہونے لگا ہے
نظر میں تھا جو چنگاری سا ماجدؔ
وُہ گل اَب گلستاں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

تن گیا آسماں کماں جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ابروئے چشم دشمناں جیسا
تن گیا آسماں کماں جیسا
جبر کے موسموں سے زنگ آلود
جو بھی تھا برگ، تھا زباں جیسا
بھُولنے پر بھی دھیان جابر کا
پاس رہتا ہے پاسباں جیسا
جو بھی ہوتا ہے دن طلوع یہاں
سر پہ آتا ہے امتحاں جیسا
ہے نظر میں جو خواب سا ماجدؔ
ہے کوئی سروِ گلستاں جیسا
ماجد صدیقی

کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
رہِ سفر میں ہوئیں ہم پہ سختیاں کیا کیا
کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا
نہ احتساب ہی بس میں، نہ احتجاج اُن کے
عوام اپنے یہاں کے ہیں بے زباں کیا کیا
فساد و فتنہ و شر کے ہم اہلِ مشرق کو
دِکھا رہا ہے نئے رنگ آسماں کیا کیا
وہ جسکے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گماں کیا کیا
ہم ایسے اڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
دکھائے اور ہنر حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
لکھو تم ہمیں چِٹھیاں دوستو
تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو
یہ دشتِ سخن اور یہ خاموشیاں
سلگتی ہے جیسے زباں دوستو
چمن میں مرے حال پر ہر کلی
بجاتی ہے اب تالیاں دوستو
کوئی بات جیسے نہ لوٹائے گا
خدا بھی برنگِ بُتاں دوستو
جِسے ڈھونڈتے ہو وہ ماجدؔ بھلا
غمِ جاں سے فارغ کہاں دوستو
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑