تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

زبانی

اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ابر بردوشِ ہوا رہ کر بھی پانی ہو گیا
اور مقیّد ہو کے نہروں کی روانی ہو گیا
لطفِ باراں سے، شگفتِ گُل سے جو منسوب تھا
ہاں وہی مضموں ادا میری زبانی ہو گیا
وہ کہ کہلاتا رہا تھا لالۂ صحرا کبھی
رنگ و خوشبو کی کشش سے میرا جانی ہو گیا
اُس نے اہلِ خاک سے پھر رابطہ رکھا نہیں
جس کو کچھ رفعت ملی وہ آسمانی ہو گیا
خواب میں اکثر لگا ایسا کہ صبح جاگتے
میں بھی اوروں کی طرح قصّہ کہانی ہو گیا
کھو کے سارے رنگ گردآلود، زنگ آلود سا
دل بھی ہے گزرے زمانوں کی نشانی ہو گیا
ہاں وہی ماجِد کہ تھا صورت گرِ جذبات جو
مانتے ہیں سب کہ ہے بہزاد و مانی ہو گیا
ماجد صدیقی

اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کیوں رُلاتی نہ تمہیں پیار کہانی میری
اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری
طاقِنسیاں میں کہیں رکھ کے اُسے بھول گئے
ا نگلیوں میں جو سجائی تھی نشانی میری
آنچ سی دینے لگا ہجر کا صحرا جب سے
اور مرجھانے لگی عمر سہانی میری
برقِ فرقت کی گرج خوف دلاتی ہے یہی
راکھ کا ڈھیر نہ ہو جائے جوانی میری
مجھ کو دہرانے پہ مجبور نہ کرنا جاناں !
جاں سے جانے کی ہے جو ریت پرانی میری
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑