تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

رن

وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
خیال ہی میں رہا، زینتِ بدن نہ ہوا
وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا
میانِ معرکہ نکلے ہیں مستِ ساز جو ہم
طوائفوں کا ہُوا مشغلہ، یہ رَن نہ ہُوا
نہ تھا قبول جو اُس کی نگاہ سے گرنا
بہم ہمیں کوئی پیرایۂ سخن نہ ہُوا
لُٹے شجر تو دِفینوں پہ کی گزر اِس نے
یہ دل زمینِ چمن تھا اجاڑ بن نہ ہُوا
تھا جیسی شاخ پہ اصرار بیٹھنے کو اُسے
نظر میں اپنی ہی پیدا وہ بانکپن نہ ہُوا
ہمیں وُہ لفظ ہے ماجدؔ مثالِ برگِ علیل
لبوں سے پھُوٹ کے جو زیبِ انجمن نہ ہوا
ماجد صدیقی

وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
جس سے بن بھی آئے، رہے ہے ان بن بھی
وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی
ناداری دکھلائے سگی ماؤں میں بھی
اپنائیت بھی اور سوتیلا پن بھی
اپنے عزیز و اقارب راضی رکھنے کو
تن من بھی لگتا ہے، لگتا ہے دھن بھی
جیسے ہو بھونچال کا شور فضاؤں میں
گُونجے ہے یوں گاہے دل کی دھڑکن بھی
سب سے بڑا ہے داعیٔ امن بھی انساں ہی
اور انسانوں میں پڑتے ہیں رَن بھی
ناآگاہ ترے اخلاص سے اہلِ جہاں
کُھلا نہیں ماجِد اِن سب پہ ترا فن بھی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑