تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

رسوا

فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
کس لئے غیروں کی کشتِ صید میں جھانکا کروں
فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں
ایک ننّھا ہے مرے جی میں بھی شوخ و شنگ سا
پا سکوں فرصت تو اُس کا حال بھی پوچھا کروں
محوِ خوابِ استراحت شہر کا والی رہے
رات بھر اندیشۂ دُزداں سے میں کھانسا کروں
ذوق پابند وسائل ہے جو اتنا ہی تو پھر
کیوں نہ چھلکے بھی پھلوں کے ساتھ اب کھایا کروں
حیف ہے اُس شوخ کی موجودگی میں بھی اگر
خشکئِ آب و ہوائے دہر کا شکوہ کروں
گُل کھلا دیکھوں کوئی ماجد تو جُوں بادِ سحر
کیوں نہ سارے گلستان میں اُس کا میں چرچا کروں
ماجد صدیقی

اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
جس کو باوصفِ ستم اپنا کہا
اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا
دَمبدم ہوں ضو فشاں اُس روز سے
جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا
عاق ہو کر رہ گئے پل میں سبھی
پیڑ نے پتّوں سے جانے کیا کہا
برق خود آ کر اُسے نہلا گئی
جس شجر کو ہم نے تھا میلا کہا
قولِ غالب ہے کہ اُس سے قبل بھی
ایک شاعر نے سخن اچّھا کہا
اک ہماری ہی زباں تھی زشت خُو
اُس نے تو ماجدؔ نہ کچھ بے جا کہا
ماجد صدیقی

نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا
روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے
گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا
بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے
عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا
کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں
نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا
موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے
پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا کِیا
ماجد صدیقی

فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا کہیں ذی مرتبت کتنے تھے اور کیا ہو گئے
فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے
کونپلیں کیا کیا نہیں جھلسی ہیں بادِ مکر سے
گلستاں امید کے، کیا کیا نہ صحرا ہو گئے
جن دنوں کی چاہ میں بے تاب تھی خلقت بہت
شو مئی قسمت سے وہ دن اور عنقا ہو گئے
خُبث کیا کیا کھُل گیا اُن کا بھی جو تھے ذی شرف
نیّتوں کے جانے کیا کیا راز افشا ہو گئے
دم بخود ٹھہرے ہیں اُن کی پاک دامانی پہ ہم
قتل کرنے پر بھی جو ماجد مسیحا ہو گئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑